خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 943
خطبات ناصر جلد اول ۹۴۳ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۶۷ء پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک تیسری جنگ کی بھی خبر دی ہے جو پہلی دونوں جنگوں سے زیادہ تباہ کن ہوگی دونوں مخالف گروہ ایسے اچانک طور پر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے کہ ہر شخص دم بخودرہ جائے گا آسمان سے موت اور تباہی کی بارش ہوگی اور خوفناک شعلے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے نئی تہذیب کا قصر عظیم زمین پر آرہے گا دونوں متحارب گروہ یعنی روس اور اس کے ساتھی اور امریکہ اور اس کے دوست ہر دو تباہ ہو جا ئیں گے ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی ان کی تہذیب و ثقافت بر باد اور ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔بیچ رہنے والے حیرت اور استعجاب سے دم بخو د اور ششدر رہ جائیں گے۔روس کے باشندے نسبتاً جلد اس تباہی سے نجات پائیں گے اور بڑی وضاحت سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اس ملک کی آبادی پھر جلد ہی بڑھ جائے گی اور وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کریں گے اور ان میں کثرت سے اسلام پھیلے گا اور وہ قوم جو زمین سے خدا کا نام اور آسمان سے اس کا وجود مٹانے کی شیخیاں بھگار رہی ہے وہی قوم اپنی گمراہی کو جان لے گی اور حلقہ بگوش اسلام ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید پر پختگی سے قائم ہو جائے گی۔شاید آپ اسے ایک افسانہ سمجھیں مگر وہ جو اس تیسری عالمگیر تباہی سے بچ نکلیں گے اور زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں اور اس قادر و توانا کی باتیں ہمیشہ پوری ہی ہوتی ہیں کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔پس تیسری عالمگیر تباہی کی انتہاء اسلام کے عالمگیر غلبہ اور اقتدار کی ابتداء ہوگی اور اس کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ اسلام ساری دنیا میں پھیلنا شروع ہو گا اور لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیں گے اور یہ جان لیں گے کہ صرف اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور یہ کہ انسان کی نجات صرف محمد رسول اللہ کے پیغام کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ پہلے جاپان اور چین کا پیشگوئی کے مطابق مشرقی طاقت کے رنگ میں افق پر اُبھر نا روس کے شاہی خاندان اور شاہی نظام کی تباہی اس کی بجائے کمیونزم کا قیام اور سیاسی اقتدار اور پھر دنیا میں اس کا نفوذ بڑھنا۔پہلی عالمگیر جنگ جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا اور پھر