خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 902
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۰۲ خطبہ جمعہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۶۷ء جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نبوت یا خلافت کے مقام پر فائز کرتا ہے وہ ان سے وعدہ کرتا ہے کہ میں تمہاری مدد کروں گا اور اپنے وعدے کے مطابق جو وہ سامان اس کی کامیابی اور تمکنت دین کے لئے دیتا ہے ان میں سے ایک قبولیت دعا کا بھی ہوتا ہے۔افریقہ سے مقامی احمدیوں کے قریباً روزانہ ہی خطوط آتے ہیں جو اپنے مقاصد کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہیں بڑی بڑی ضروریات کے لئے بھی اور معمولی معمولی تکالیف کے سلسلہ میں بھی۔افریقہ میں یہ جو لکھنے والے ہیں میں ان کو تو جہ دلاتا رہتا ہوں کہ تم خود بھی دعا کرو اور خود اپنی ضروریات کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرو، ساتھ ہی میں بھی تمہارے لئے دعا کروں گا۔قبولیت دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اپنی محبت ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، اسلام کی محبت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ، احمدیت کی محبت اور خلافت کی محبت پیدا کرتا ہے حال میں ایک افریقن نوجوان کا خط مجھے ملا ہے کہ قریباً چار ماہ ہوئے میں نے آپ کی خدمت میں لکھا تھا کہ میرے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا ، دعا فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولا د عطا فرمائیں، اب آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اور میرے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے اور عمر والا ہو۔لیکن با وجود اس کے کہ بعض بندوں کی دعائیں عام طور پر (اگر وہ سنی جانے کے قابل ہوتی ) قبول ہو جاتی ہیں۔یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مقرب بندہ، بندوں کو خدا سے دور نہیں لے جاتا ، وہ تو خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ان پر کھولتا ہے اور ہر دم اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کا ہر بھائی خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق محبت کو قائم کر لے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں بھی سنے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ روک بن کے کھڑا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ سے لوگوں کو بے نیاز نہیں کرتا ، وہ ایک بت نہیں بن جاتا ، جو یہ کہے کہ خدا تک جانے کی ضرورت نہیں میرے پاس آؤ میں تمہارے لے دعا کروں گا وہ قبول ہو جائے گی اس کے بالکل برعکس وہ ان کے ذہن میں یہ بات پورے زور کے ساتھ ڈالتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے وہ اس سے بولتا ہے اور اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے لیکن بندہ خود اس سے دور ہو جاتا ہے اور اس سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس کی