خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 881
خطبات ناصر جلد اول ΑΔΙ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء اخباروں کے ذریعہ نازل ہوتا ہوا ہمیں نظر آیا ، ہمارا اندازہ تھا کہ اگر لاکھوں روپیہ بھی ہم خرچ کرتے تو اس قسم کی تبلیغ اور اشاعت اسلام ہمارے لئے ممکن نہ ہوتی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مفت میں ہو گئی۔تیسر افضل یا تیسر اسلسلہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا یہ ہے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔آپ کے لئے ہے تو مشکل اس کا سمجھنا کیونکہ یہ واردات مجھ پر گزری ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی وہی مجھے وہ سمجھا دیتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ایسی عجیب شان میں نے دیکھی ہے کہ میں اندھیرے میں ہوتا تھا اور سوال کرنے والا روشنی میں ہوتا تھا اس نے اپنی ایک سکیم بنائی ہوئی ہوتی تھی کہ یہ یہ سوال کرنے ہیں اور میں اندھیرے میں ہوتے ہوئے بھی اس کو ایسا جواب دیتا تھا۔کہ وہ حیران رہ جا تا تھا۔اور جو اس کا مقصد ہوتا وہ ظاہر ہی نہ ہوتا تھا اس کا قصہ یوں ہے، ہے لمبا اگر آپ اکتائیں نہ میں بولتا جاتا ہوں ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا۔وہاں سے مطالبہ آیا کہ آپ لکھی ہوئی تقریریں کریں عام طور پر مجھے لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کی عادت نہیں اور اس وجہ سے کچھ گھبراہٹ بھی ہوتی ہے لکھ کر پڑھنے سے زبانی بولنے سے اتنی گھبراہٹ نہیں ہوتی اور دعا کے بغیر تو نہ میں کبھی بولتا ہوں اور نہ اس پر یقین رکھتا ہوں کہ بغیر دعا کے بولا جائے لیکن بہر حال عادت ہوتی ہے وہ زور دے رہے تھے کہ لکھی ہوئی تقریر پڑھیں۔جب بہت زور دیا تو میں نے کہا اچھا لکھنا شروع کرتے ہیں پہلے میں نے فرینکفرٹ میں تقریر کرنے کی نیت سے نوٹ لکھنا شروع کیا جب لکھ چکا اور اسے پڑھا تو مجھے پسند نہ آیا اسے ایک طرف رکھ دیا۔پھر میں نے ایک دوست کو کہا کہ میں ڈکٹیٹ کراتا ہوں تم لکھتے جاؤ جب میں ڈکٹیٹ کروا چکا اور انہوں نے پڑھا تو وہ بھی مجھے پسند نہ آیا اسے بھی میں نے ایک طرف رکھ دیا۔اگلے دن صبح جب پھر میں لکھنے بیٹھا تو وہ میں نہیں تھا جو لکھ رہا تھا پیچھے سے مضمون آ رہے تھے اور میری قلم ان کو لکھتی جارہی تھی۔عملاً یہ ہوا کہ جب ایک فقرہ ختم ہوا تو اگلا جملہ خودقلم لکھ گئی تو ایک محبت اور علم کا چشمہ تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نمونہ اس طرح ظاہر کیا۔وہ پنتالیس منٹ کا مضمون بن گیا بڑا ز ور والا ، بڑے مضبوط دلائل پر مشتمل اور بڑی وضاحت سے جھنجھوڑ کے انتباہ کرنے والا اور