خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 864 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 864

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۶۴ خطبہ جمعہ ۱۸ ستمبر ۱۹۶۷ء میں شائع ہو گئے ہیں اس نے بہت کچھ وہاں کے حالات سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔تحریک جدید میں بھی وہ بلیٹن پہنچ گئی ہے ان کو چاہیے کہ وہ الفضل کے ذریعہ بھی اس قسم کے تاثرات کو جماعت کے دوستوں کے سامنے رکھیں وہاں کی لجنہ کی پریذیڈنٹ بھی آئی ہوئی تھیں وہ لنڈن پہنچی تھیں بعد میں کوپن ہیگن جا کر انہوں نے مسجد دیکھی مجھے ان کا خط ملا ہے کہ مسجد دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نہایت ہی خوبصورت گھر اللہ تعالیٰ کا ڈنمارک میں بن گیا ہے۔چونکہ لنڈن یا انگلستان کی جماعتیں زیادہ تر پاکستانیوں یا اردو بولنے والوں پر مشتمل ہیں اس لئے میں ان سے زیادہ تر اُردو میں مخاطب ہوتا رہا جو تقریر رات کے کھانے کے موقعہ پر انگریزی میں میں نے کی اس میں صرف مرد شامل تھے مستورات مدعو نہ تھیں اس لئے صد ر لجنہ اماءاللہ امریکہ اس میں شامل نہ ہو سکتی تھیں۔ایک دن جمعرات کو مجھے کہنے لگیں کہ کئی دن سے ہم آئے ہوئے ہیں تقاریر میں شامل ہوتے ہیں لیکن ہم نے انگریزی زبان میں کوئی چیز نہیں سنی کہ ہم کچھ تو اپنے ملک میں لے کر جائیں کل کے خطبہ میں آپ کچھ انگریزی میں بھی کہیں۔چنانچہ ان کی اس خواہش اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے اور یہ سوچ کر کہ بہت سے اور دوست بھی ہوں گے یہاں جو باہر سے آئے ہیں اور بڑی محبت اور پیار سے آئے ہیں۔ایسی زبان میں بھی بات کرنی چاہیے کہ وہ سمجھ سکیں اور ان کے دلوں کو تسلی ہو سکے۔میں نے وہ خطبہ سارا انگریزی میں دیا تھا اور بتانے والوں نے مجھے بتایا کہ سارے خطبہ کے دوران اس بہن کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے اس کے بعد وہ مجھے ملیں گھنٹہ سوا گھنٹہ میں نے ان دو بہنوں کو وقت دیا جو امریکہ سے آئی ہوئی تھیں مختلف مسائل ان کو سمجھائے بعض انتظامی معاملات کے متعلق انہوں نے بعض باتیں مجھے بتا ئیں اور ان کا حل میں نے انہیں بتایا اس وقت بھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے جسم کا ذرہ ذرہ اپنے اللہ پر فدا ہونے کے لئے تیار ہے اس قسم کا اخلاص ان لوگوں میں پیدا ہو چکا ہے اسی طرح جو ماریشس سے آئے ہوئے تھے ان کی بھی یہی حالت تھی نائیجیریا کے مقامی دوست جو وہاں پہنچے تھے ان میں سے ایک وہ ہیں جو طلباء کی فیڈ ریشن کے وائس پریذیڈنٹ یعنی نائب صدر ہیں ان کے صدر بھی احمدی ہیں لیکن ایک چھوٹا سا حصہ کسی وقت آج سے کافی عرصہ پہلے ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے )