خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 739
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۳۹ خطبہ جمعہ ۹/جون ۱۹۶۷ء مناسب طریق ہیں وہ ہمیں سکھاتا کہ ہم ہر قسم کی بیماری سے اور ضعف سے اور لغزش سے اور بددلی سے محفوظ ہو جا ئیں اور تیرے قرب کو حاصل کر لیں۔احسن پر ، یعنی جو بہتر پہلو ہے اس کے اختیار کرنے کی طرف بڑے زور سے اور بڑی کثرت سے قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے مثلاً فرمایا ہے جادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: ١٢٦) دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے تم مختلف پہلوؤں کو اختیار کر سکتے ہو تو جو اَحْسَنُ پہلو ہے اس کو اختیار کرو ایک شخص ہے جو محبت سے بات سننے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تم اسے ڈراؤ نہیں۔ایک موقعہ ایسا آتا ہے کہ مخالف سمجھتا ہے کہ اگر میں نے ان کو فساد کی طرف آمادہ کر لیا تو ان کو نقصان ہوگا ہمیں فائدہ ہوگا اس وقت ایک احمدی کا فرض ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق امن کی فضا کو قائم رکھنے کے لئے انتہائی کوشش کرے اور جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ میں جو احسن طریق اختیار کرنے کا حکم ہے اس پر عمل پیرا ہو، تا امن میں رخنہ نہ پیدا ہو۔بہت سے احکام میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ کئی طریقے اختیار کئے جاسکتے ہیں ایک حکم کی بجا آوری میں۔تو جو احسن طریق ہے اس کو تم اختیار کرو۔اصولاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا انْزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمُ (الزمر : ۵۲) قرآن کریم کی کامل اور مکمل شریعت تم پر اُتاری گئی ہے اور تمہیں حکم یہ دیا جاتا ہے کہ وَاتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ تمہارے رب نے جو تمہاری ربوبیت کرنا چاہتا ہے اپنی اس صفت کے تقاضا سے ایک ایسی شریعت نازل کی ہے جو مختلف پہلو رکھتی ہے اور ہر آدمی ، ہر فرد، ہر قوم، ہر زمانہ کی ربویت کا تقاضا یہ ہے کہ مختلف پہلوؤں سے اس پر عمل کیا جا سکے تو ہر پہلو اس کے اندر آ گیا ہے اس شریعت کا نزول ربّ کریم کی طرف سے ہے اس لئے قیامت تک محفوظ ہے جو احسن طریق ہے اس کو تم اختیار کرو اور ہر حکم کو اس احسن طریق پر بجالاؤ جو تمہارے مطابق حال ہو، جو زمانہ کے مناسب حال ہو۔جس کے نتیجہ میں تمہارے قومی اور تمہاری استعداد میں صحیح نشو ونما اور ربوبیت کو حاصل کرسکیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے فَبَشِّرُ عِبَادِ - الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ اَحْسَنَهُ (الزمر : ۱۸ ، ۱۹ ) کہ میرے ان بندوں کو جو ( الْقَوْل ) اس بہترین شریعت کو