خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 715 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 715

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء تفصیل میں جاؤں گا۔انشاء اللہ۔پندرھواں مقصد بلدًا امنا میں بیان ہوا تھا اور وعدہ دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کو دنیا کے ظالمانہ حملوں سے اپنی پناہ میں رکھے گا اور اس کے مٹانے کی ہر کوشش نا کام کر دی جائے گی بلکہ حملہ آور تباہ اور برباد ہوں گے اور اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ ہم نے مکہ کی حفاظت ایک خاص غرض کے ماتحت کی ہے اور بتایا تھا مکہ کی حفاظت اس لئے کی جائے گی تا دنیا پر یہ بات واضح کریں کہ جس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہم اس مقام سے مبعوث کرنا چاہتے ہیں وہ ہماری حفاظت میں ہوگا اور تا دنیا یہ جان لے کہ جو شریعت ہم اس میں نازل کرنا چاہتے ہیں اس کے بھی ہم ہی محافظ ہوں گے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا کی پناہ میں ہونا اور اس نبی معصوم پر جو شریعت نازل ہوئی ہے اس کا پوری طرح اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہونا۔خانہ کعبہ کی حفاظت میں ان ہر دو کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا تھا چنانچہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ جو وعدہ کیا گیا تھا اس وعدہ کے مصداق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور فرما یا اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔اس آیت کی ابتداء یوں ہوتی ہے۔ايُّهَا الرَّسُولُ بَلِخَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبَّكَ (المآئدة: ۶۸) کہ جو ہدایت اور جو تعلیم اور جو شریعت تم پر نازل کی گئی ہے تم بلا خوف اور بغیر خطرے کے دلیری کے ساتھ اس کی تبلیغ کرو اور اس آب حیات کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤ ، لیکن ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ اس تبلیغ پر دنیا راضی نہیں ہوگی اور خوش نہیں ہوگی بلکہ وہ ہزار منصوبے بنائے گی تمہیں قتل کرنے کے تمہیں ہلاک کرنے کے ہتمہیں مٹا دینے کے تمہاری تنظیم کو مٹا دینے کے لیکن تم دنیا اور اس کے منصوبوں اور سازشوں کی پرواہ نہ کرو، کیونکہ ہمارا تم سے یہ وعدہ ہے کہ تم ہماری پناہ میں ہو ، ہماری حفاظت میں ہو دنیا جو چاہے کرے، دنیا کی سب طاقتیں بھی اکٹھی ہونا چاہتی ہیں، ہو لیں تمہیں تباہ نہیں کر سکتیں تمہیں ہلاک نہیں کر سکتیں اس لئے تم بغیر کسی خوف اور خطرے کے اپنی تبلیغ میں لگے رہو کیونکہ ہم تمہاری حفاظت کرنے والے ہیں۔ہمارے فرشتے آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہیں ہلاکت سے بچائیں گے اور محفوظ رکھیں گے۔