خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 705
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۰۵ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء سب امیدوں کو اپنے رب سے ہی وابستہ کر لیتا ہے اور صرف اس پر توکل رکھتا ہے اور حاجت براری کے لئے صرف اس کے دروازہ کو کھٹکھٹاتا ہے اور اس کا دل اس یقین سے پر ہوتا ہے کہ جو کچھ ملنا ہے صرف اسی در سے ہی ملنا ہے جوتی کا ایک تسمہ ہو۔یا دنیا جہان کی عزتیں۔جس شخص پر عظمت و جلال کا یہ جلوہ ظاہر ہو وہ یہ نہیں کیا کرتا کہ کشوف ورڈ یا کا ایک کشکول بنائے اور قبولیت دعا کے واقعات سے اسے سجا کر در در پھرے اور دنیا والوں سے دنیا کی عزت اور احترام اور توصیف اور تحسین کی بھیک مانگے اور دنیا کی نگاہوں میں اپنے لئے کسی احترام کا متلاشی ہوا ایک مردہ سے اسے کیا لینا ہے؟ اور ایک لاشہ نے اسے کیا دینا ہے؟ جس کی عظمت اور جلال کے خوف نے اور جس کی بے پایاں رحمت کی امید نے جس در کا فقیر اسے بنادیا وہ اسی در پر دھونی رمائے امید وبیم کے درمیان زندگی کے دن پورے کر دیتا ہے، تب اس کا رب اس سے راضی ہوتا ہے اور محبت سے اپنی گود میں اسے بٹھا لیتا ہے اور دنیا اور آخرت کی جنتیں اسے مل جاتی ہیں۔رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک ایسی اُمت کے معرض وجود میں آنے کی بشارت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی اور خدا کی قسم اس نے اپنے وعدہ کو پورا کر دکھایا۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ (روز نامه الفضل ربوه ۲۸ رمئی ۱۹۶۷ء صفحه ۱ تا ۵)