خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 704 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 704

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۰۴ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء بڑا انکسارسجدہ میں ہے جو بہت ہی عاجزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔16 اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہم اپنے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں ایک ایسی جماعت پیدا کرتے رہیں گے جو انکسار اور تذلل اور فروتنی اور تواضع کے مقام کو مضبوطی سے پکڑے اور اس تذلیل اور انکسار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس امن کے قیام کے امکانات پیدا کرے گا جو آھنا میں بیان ہوئے ہیں اور جس کی تعلیم قرآن کریم نے تفصیل سے ہمیں دی ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی عبادت (۱) محبت و ایثار اور (۲) تذلّل و انکسار ہر دو کے خمیر سے پرورش پاتی ہے لیکن کبھی محبت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور کبھی تذلل اور فروتنی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا حسن اور اس کا احسان جلوہ فگن ہوتا ہے تو انسان کا دل اپنے رب کی محبت سے بھر جاتا ہے اور ایک عاشق زار کی طرح وہ اس کی ہر آواز پر لبیک کہتا ہے وہ اس کے گرد گھومتا ہے وہ نیستی کا لبادہ پہن کر اسی میں کھو جاتا ہے اور اس کے اپنے وجود پر کلیتہ ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی اس کے رب کی طرف سے اسے عطا ہوتی ہے۔مگر دنیا اسے نہیں پہچانتی اور وہ اس کی کچھ پر واہ بھی نہیں کرتا۔لیکن جب خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا جلوہ اس پر ظاہر ہوتا ہے تو اس کا دل خوف ورجاء اور امید و بیم سے لبریز ہو جاتا ہے عظمت الہی اور جلال الہی کے اس جلوہ کے بعد اس کی اپنی کوئی بزرگی اور عظمت باقی نہیں رہتی وہ فروتنی کا جامہ پہن لیتا ہے انکسار کو اپنا شعار بناتا ہے اور تذلیل کی گرد سے غبار آلود اور آغب نظر آتا ہے وہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتا ہے اور عاجزی کے ساتھ اور خوف زدہ دل کے ساتھ لرزاں اور ترساں اپنے رب کے حضور جھکتا ہے اور اس کی عظمت اور جلال کا اقرار کرتا ہے اس کے جسم کا ہر ذرہ اور اس کی روح کا ہر پہلو اپنے ربّ کےخوف سے کانپ رہا ہوتا ہے اور عظمت و جلال کا یہ جلوہ اسے اس حق الیقین پر قائم کر دیتا ہے کہ اس عظمت کے مقابلہ میں سب مخلوق مردہ اور لاشئے محض ہے اور ان سے کسی بھلائی کی امید نہیں رکھی جاسکتی اور نہ وہ بذات خود اس کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر امید وابستہ کی جاسکتی ہے تو صرف ذوالجلال والاکرام سے۔تب خوف کے ساتھ ایک امید و رجاء بھی اس کے سینہ صافی میں پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی