خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 54
خطبات ناصر جلد اول ۵۴ خطبہ جمعہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء اس لئے آج کے انسان سے لے کر اس آخری انسان تک جو اس دنیا میں پیدا ہوگا اور ملک عرب سے لے کر تمام ان ملکوں کی اقوام تک جو اکناف عالم میں آج موجود نہیں یا آئندہ پیدا ہوں گی ان سب کی صلاحیتوں اور استعدادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ عظیم الشان کتاب بنی نوع انسان کے ہاتھ میں دی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ قرآن ہے۔اتنا عظیم الشان قرآن کہ جس کا تعلق ہم نے ماہ رمضان کے ساتھ بڑی مضبوطی سے قائم کر دیا ہے۔پھر ھدی للناس میں یہ بھی فرمایا کہ قرآن کریم صرف انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق ہی نہیں بلکہ اس میں ایک یہ بھی خوبی پائی جاتی ہے کہ بندے کی ہدایت کو درجہ بدرجہ بڑھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ جس طرح ایک طالب علم پہلی جماعت کا نصاب ختم کرنے کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ دوسری جماعت میں بیٹھے اور دوسری جماعت کا نصاب ختم کرنے کے بعد وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ تیسری جماعت میں بیٹھے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے جو نیک بندے ہیں جب وہ ہدایت کے ایک درجہ پر پہنچتے ہیں اور الہی احکام کو بجالاتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ اس درجہ کی ہدایات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درجہ کو اور بلند کر دیتا ہے اور ہدایت کی نئی راہیں ان پر کھولتا ہے۔تو ہدایت کے معنوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مزید ہدایت کی جو خواہش یا استعداد پیدا ہو جاتی ہے اس کے مطابق مزید ہدایت کے سامان بھی اس میں موجود ہیں۔پس فرمایا کہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں بلکہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ صرف ایک دفعہ ہدایت دے کر پھر پیچھے ہٹ کر کھڑی نہیں ہو جاتی بلکہ ہمیشہ تمہیں اس کی ضرورت رہتی ہے۔جتنی جتنی تم ایمان اور عرفان میں ترقی کرتے جاتے ہو۔قرآن کریم تمہیں اس سے آگے ہی راستہ دکھاتا چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہاری انتہائی منزل ابھی نہیں آئی۔آؤ میں تمہیں اس سے بھی آگے لے جاؤں۔پھر وہ تمہارا ہاتھ پکڑتا ہے اور اگلی ہدایات کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اپنے قرب کی نئی راہیں تم پر کھولتا ہے۔