خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 653 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 653

خطبات ناصر جلد اول ۶۵۳ خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے اور ہمارے رب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کئے تھے۔اب میں یہ بتاؤں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ وعدہ (وُضِعَ لِلنَّاسِ کا ) کس طرح اور کس شکل میں پورا ہوا ظاہر ہے کہ چونکہ وعدہ تمام اقوام کے لئے تھا اور وعدہ یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان مکہ سے برکت حاصل کریں گے اور عقلاً یہ ممکن نہیں کہ شریعت کا ملہ کے نزول کے بغیر ایسا ہو اس لئے قرآن کریم کی کامل شریعت کا نزول اس وعدہ کے پورا ہونے سے قبل ضروری تھا۔قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ (البقرة: ۳) یہ قرآن ایک کامل اور مکمل شریعت ہے اور اس دعوئی کے دلائل قرآن کریم نے یہ دیئے کہ لَا رَيْبَ فِيهِ - رَيْبَ کے چار معنی جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں ان کی رو سے یہاں ہمارے سامنے چار دلائل بیان کئے گئے ہیں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ واقعہ میں یہ قرآن، یہ کتاب ہر لحاظ سے مکمل کامل اور اکمل اور اتم ہے۔ریب کے ایک معنی کی رُو سے قرآن کریم کی تعریف یہ نکلتی ہے کہ انسان کی روحانی اور جسمانی اور معاشرتی اور اخلاقی اور اقتصادی اور سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف یہی ایک کامل کتاب ہے اور یہی ایک کامل کتاب ہے جو فطرت انسانی کے سب حقیقی تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔کیونکہ یہ اپنے ذاتی کمالات اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات کے ساتھ اپنی ضرورت اور صداقت کو ثابت کرتی ہے۔اگر میں اس دلیل کو پھر ایک دعوی قرار دے کر اس کے دلائل بیان کرنے لگوں تو اس ایک دلیل پر ہی بڑا وقت خرچ ہو جاتا ہے قرآن کریم کو ایک حد تک سمجھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کے دلائل اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات اس قسم کی ہیں کہ جو تمام پہلی کتب پر اس کو افضل ثابت کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب بنی اسرائیل کی الہامی کتب کے متعلق سوال کیا گیا کہ ان کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی ؟ تو آپ نے یہ جواب دیا کہ سارے قرآن کریم کا نام نہ لو وہ تو بہت وسیع کتاب ہے بڑے علوم اس کے اندر پائے جاتے