خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 652
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۵۲ خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - (البقرة : ۱۲۶ تا ۱۳۰) فرمایا:۔میں نے گذشتہ دو خطبات میں بتایا تھا کہ ان آیات میں جو میں نے ان خطبات سے پہلے بھی تلاوت کی تھیں اور آج بھی تلاوت کی ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے تنیس مقاصد کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بیت اللہ سے ہے اور جن مقاصد کا حصول بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اگر چہ یہ سب وعدے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے دیئے گئے تھے۔لیکن یہ باتیں، یہ وعدے اور یہ پیشگوئیاں حقیقی طور پر اس وقت پوری ہوئیں اور یہ سب مقاصد اس وقت حاصل ہوئے جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور قرآن کریم کی شریعت آسمان سے نازل ہوئی۔بیت اللہ کے قیام کی پہلی غرض اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جیسا کہ میں نے اپنے پہلے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا یہ بتائی ہے کہ وضع للناس یہ اللہ کا گھر اس لئے از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے تعمیر کروایا جا رہا ہے کہ تمام اقوام عالم کے دینی اور دنیوی فوائد اس بیت اللہ سے وابستہ کر دیے جائیں اور ظاہر ہے کہ یہ اڑھائی ہزار سالہ زمانہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے درمیان گزرا اس زمانہ میں یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بیت اللہ سے تمام اقوام عالم دینی اور دنیوی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔بہت سی قو میں اس وقت ایسی بھی تھیں جو بیت اللہ یا مکہ کے جغرافیہ سے بھی واقف نہیں تھیں۔اکثر اقوام عالم وہ تھیں کہ جن کے دلوں میں بیت اللہ کی کوئی محبت نہیں تھی۔وہ اس کی طرف کھنچے ہوئے نہیں آتے تھے۔ان کی نگاہ میں اس کی کوئی عزت اور احترام نہیں تھا اور انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ بیت اللہ سے بعض ایسی برکات اور فیوض بھی وابستہ ہیں کہ اگر ہم ان کو جانیں اور پہنچا نہیں تو ہم ان برکات اور فیوض سے حصہ لے سکتے ہیں لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو یہی گھر جسے دنیا بھول چکی تھی دنیا نے اس کو پہچان لیا اور اس کی برکات کو جان لیا اور دنیا کے دل میں، اکناف عالم میں بسنے والی اقوام کے سینہ میں اس کی محبت پیدا ہوگئی اور وہ تمام وعدے پورے ہونے لگے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ربّ