خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 46

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء ایک کس کا کھانا پکے تو دو کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور اگر چھ کس کا پکے تو بارہ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔لیکن ان کے مقابل بعض ایسے گھرانے ہوتے ہیں جہاں دو کے لئے کھانا پکے تو صرف تین کس کے لئے کافی ہو سکے گا اور بعض گھرانے ان کی نسبت بھی زیادہ غریب ہوتے ہیں۔اگر وہاں تین آدمیوں کا کھانا پکایا جائے گا تو صرف چار کے لئے کافی ہوگا اور بعض گھرانے ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جن میں آٹھ کا کھانا پکے تو نو کو ہی کافی ہو۔ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ کھانا کھلاؤ اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کوئی زائد خرچ کئے بغیر تم خدا تعالیٰ کے اس حکم کی کس طرح تعمیل کر سکتے ہو۔تم جس طبقہ سے تعلق رکھتے ہو۔یا تو وہ ایسا ہوگا جس میں ایک کا کھانا دو آدمی کے لئے اور دو آدمی کا کھانا چار کے لئے اور چار آدمی کا کھانا آٹھ آدمی کے لئے کافی ہوگا۔یا وہ ایسا طبقہ ہو گا جس میں دو آدمی کا کھانا تین کے لئے اور تین کا چار کے لئے کافی ہوگا۔یا جس میں کہ چار آدمی کا کھانا پانچ آدمی کے لئے کافی ہو گا۔مثلاً ایک عام مزدور کے گھرانے میں چار افراد ہیں اور ان میں سے ہر شخص تین روٹیاں کھاتا ہے تو گویا اس کے گھر میں بارہ روٹیاں پکیں گی۔اگر ان چار میں سے ہر ایک تین کی بجائے اڑھائی روٹیاں کھالے تو دو روٹیاں مستحق کے لئے نکل سکیں گی اس طرح کوئی زائد خرچ نہ ہوا اور ایک ضرورت مند کی ضرورت بھی پوری ہو گئی۔تین کی بجائے اڑھائی روٹی کھانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی آدھی روٹی کم کھانے کے نتیجہ میں کوئی عارضہ یا تکلیف یا دکھ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ عادتاً ہم لوگ ضرورت سے زیادہ ہی کھاتے ہیں۔اس طرح نہ ہمیں کوئی زائد خرچ کرنا پڑتا ہے اور نہ ہمیں کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے لیکن ایک آدمی کا کھانا بھی ہم نکال لیتے ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون ہے وہ حاجت مند جسے ہم نے کھانا دینا ہے۔اس کے لئے آپس میں تعلقات اور آپس میں پیار کے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اپنی تنظیم کو اس طرح اخوت کی بنیادوں پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کہ محلہ والوں کو معلوم ہو کہ آج فلاں گھرا نہ کسی