خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 45
خطبات ناصر جلد اول ۴۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء جہاں تک میرا احساس ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں پوری طرح محاسبہ نہیں کیا جاتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور شاید ہی کوئی ایسے محتاج دوست ہوں جن کی غذائی ضروریات پوری نہ کی جاتی ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر ایک احمدی بھی ایسا ہے جس کی غذائی ضروریات پورا کرنے میں ہم غفلت برت رہے ہوں ، تو ہمیں بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی پیار کرنے والے وجود تھے۔بڑی ہی شفقت کی باتیں آپ کے منہ سے نکلی ہیں۔چنانچہ آپ نے ہمیں ایسا گر سکھایا ہے کہ جس کو اگر ہم اپنے سامنے رکھیں اور اس پر عمل کریں۔تو ایک دھیلا زائد خرچ کئے بغیر ہم اپنے ضرورت مند بھائیوں کی غذائی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور یہ ارشاد بخاری میں موجود ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْإِثْنَيْنِ كَافٍ لِثَلَاثَةٍ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافٍ لِأَرْبَعِ - کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو پورا ہو جاتا ہے اور تین کا کھانا چار کو پورا ہو جاتا ہے۔ایک اور حدیث جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ترمذی میں درج ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ - کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور دو آدمی کا کھانا چار کے لئے اور چار کا کھانا آٹھ آدمی کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔پس ایک حدیث میں تو یہ ہے کہ ایک کا کھانا دو کے لئے اور دوکا کھانا تین کس کے لئے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔لیکن دوسری حدیث میں دگنا کرتے چلے گئے۔دراصل بات یہ ہے کہ بعض گھرانے ایسے ہوتے ہیں جو اچھے کھاتے پیتے ہیں وہاں اگر