خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 577
خطبات ناصر جلد اول ۵۷۷ خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء دنیا کی اشیاء اس ثواب کے مقابلہ میں جو نیک اعمال کے بدلہ میں ملتا ہے تمنا قليلا کی حیثیت رکھتی ہیں خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور پرنور نے یہ آیات پڑھیں۔وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلًا اِنَّمَا عِنْدَ اللهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم تَعْلَمُونَ - مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمُ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(النحل : ٩٧،٩٦) پھر فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنی جانوں سے محبت رکھتے ہو۔تم اپنی بیوی بچوں سے محبت رکھتے ہو تم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے محبت رکھتے ہو۔تمہیں دنیا کے مال و اسباب اچھے لگتے ہیں اور تم انہیں اپنے لئے مفید اور بہتر سمجھتے ہو۔دنیا کی دولت کی طرف تم جھکتے ہو جو مکان تم تعمیر کرتے ہوان کے لئے تمہارے دلوں میں ایک تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور تم انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔تمہاری تجارتیں تمہیں بڑی محبوب اور پیاری ہیں۔اسی طرح تمہاری زرعی زمینیں بھی تمہیں اتنی اچھی لگتی ہیں کہ بعض دفعہ تم ان کے کناروں پر اپنے کسی بھائی کا خون کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہو۔مگر یہ سب چیزیں اس کے مقابلہ میں جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے عہد بیعت