خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 575
خطبات ناصر جلد اول ۵۷۵ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء میں خرچ کریں کہ ہم اس کی رضا کو حاصل کر لیں اور ان بندوں میں شامل نہ ہوں۔جن کو حشر کے دن سودا بازی کی طرف توجہ ہوگی یا وہ اپنے دوستوں کی تلاش میں ہوں گے بلکہ اس وقت ہمارے دل یہ محسوس کر رہے ہوں گے کہ ہمارا خدا ہمار ا ولی ہے اور آج وہ اپنی تمام عظمت اور جبروت کے ساتھ ہم پر جلوہ گر ہے ہمیں کسی شیطان سے یا کسی شیطانی طاقت سے ایذاء پہنچنے کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ہم اپنے رب کی رضا کی گود میں بیٹھے ہیں۔خدا کرے کہ ہم اُس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج میں اور آپ کی اُمت میں شامل ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں کھڑے ہوں اور ہم پر خدا تعالیٰ کا کوئی الزام نہ ہو اور ہر اس کمزوری یا غفلت یا کوتاہی کو جو ہم بطور انسان اس دنیا میں کر چکے ہوں اس وقت اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر ڈھانچے ہوئے ہو۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمارے لئے جوش میں آ رہی ہو اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے اس دن ہمارے لئے کھلیں۔جنت کے سب دروازے ہمارے لئے کھولے جائیں اور کہا جائے کہ جس دروازے سے بھی تم چاہو داخل ہو سکتے ہو۔خدا تعالیٰ اس دن ہم سے کہے میری طرف آؤ اور میری رضا کی جنت میں داخل ہو جاؤ اور خدا کرے کہ ہم اس دن اس گروہ میں نہ ہوں جو دنیا بھر سونا، دنیا کے تمام اموال اور متاع اور اس سے دگنے اموال اور متاع پیش کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی بجائے اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے آج اس زندگی میں ہمیں جو تنبیہ کی ہے۔خدا کرے کہ ہم اس سے فائدہ اُٹھانے والے ہوں خدا کرے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس پیار کا اظہار اس آیہ کریمہ میں کیا ہے۔ہم اس دن اس کی نگاہ میں اس پیار کے مستحق ٹھہریں۔اللهم آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )