خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 574

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۷۴ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء اس وقت بہت مہنگی ہوگئی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ایک طرف میری شریعت کو پوری طرح قائم کرو اور دوسری طرف شریعت کے وہ احکام جو فرائض میں شامل نہیں بلکہ نوافل ہیں۔ان کی اطاعت کرو تم ایسا انتظام کرو کہ جو طاقتیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں ہم نے جو سامان اور وسائل تمہیں دیئے ہیں۔ان کو ہماری رضا کی خاطر اپنے بھائیوں پر خرچ کرو اور یہ کام اس دن سے پہلے کرو جس کا ذکر میں نے اپنے خطبہ کے شروع میں کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم ایسا کرنے میں سستی کرو گے تو یاد رکھو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے پیش ہونا ہے اس دن تمہارے اعمال اپنی نہایت بھیانک شکل میں تمہارے سامنے ہوں گے وہ سزا کی شکل میں تمہارے سامنے ہوں گے۔اس دن میں کہوں گا کہ میرے نزدیک ریا کی یہ سزا ہے میرے نزدیک تکبر کی یہ سزا ہے میرے نزدیک نفاق کی یہ سزا ہے میرے نزدیک فتنہ پردازی کی یہ سزا ہے۔تم میرے رسول پر ایمان لائے تھے۔اس لئے تمہیں ان باتوں سے بچنا چاہیے تھا آج میرے سامنے کوئی سودا نہیں ہوسکتا (روحانی یا مذہبی تجارت جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔اس کا تعلق اُخروی زندگی سے ہے ) دنیا میں تمہاری جو دوستیاں تھیں وہ بھی آج تمہارے کام نہیں آسکتیں۔آج صرف میری دوستی تمہارے کام آسکتی ہے آج صرف میری رحمت اور میری مغفرت کام آسکتی ہے۔غرض وہ دن تمہیں پیش آنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اس دن سے پہلے تم اپنے بچاؤ کے سامان کر لو کیونکہ اس دن تم سے کچھ نہیں ہو سکے گا اور تمہارا بچاؤ اس چیز میں ہے کہ قرآن کریم کی شریعت کو قائم کرو۔تمہارا بچاؤ اس چیز میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی عطاء کو اس کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرو اور جب تم اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک اور بھائیوں والا سلوک کرو تو اس بات کا خیال رکھو کہ جس چیز کی انہیں زیادہ ضرورت ہے وہ چیز انہیں پہلے دی جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں محض اپنے فضل سے صلوۃ کے قائم کرنے کی اُس کے ہر اس معنی کے لحاظ سے جو اس کے علم غیب میں ہیں اور علم کامل میں ہیں، توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا کرے کہ ہم اس کی منشا کے مطابق اس طور پر اپنی طاقتوں اور اپنے سامانوں کو اس کی راہ