خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 563
خطبات ناصر جلد اول ۵۶۳ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء جوش کو دبا نہ سکیں اور لڑائی جھگڑے کی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جو اس قسم کے مقدس اجتماع میں ہم نہیں پسند کرتے۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت بڑے بلند معیار پر قائم ہے۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ایسے مقدس اجتماع میں کسی خناس کی شرارت کے نتیجہ میں کسی ایک آدمی کی بھی دلآزاری ہو اور اس کی توجہ دعاؤں سے اور عاجزانہ خشوع وخضوغ سے بٹ کے ایسی ناواجب باتوں میں اُلجھ جائے۔پس اگر باہر سے کوئی ایسے لوگ آجائیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ اس اجتماع میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے جاری کیا ہے اور جو بڑی برکات اور فیوض کا حامل ہے اس میں وہ فاسقانہ اور شر انگیز باتوں کو پھیلا سکتے ہیں اور اسی نیت سے وہ یہاں آئے ہوں، تو آپ کا فرض ہے کہ آرام کے ساتھ ، بغیر کسی قسم کی بدمزگی پیدا کئے ایسے لوگوں کو نظام کے سپر دکر دیں۔نظام ان کو سمجھا بجھا کے ایسا انتظام کر دے گا کہ دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔یہاں چونکہ اب ماحول ربوہ سے بھی بہت سے لوگ آنے لگے ہیں۔عام حالات میں بھی آتے ہیں مگر اجتماعات میں تو بڑی کثرت سے آتے ہیں اور اس دفعہ تو چونکہ آٹے وغیرہ کی بہت قلت ہے اس لئے ممکن ہے کہ بعض لوگ جلسہ پر باہر سے صرف کھانا کھانے کے لئے آجائیں۔اگر ہمارے پاس توفیق ہوتی تو ہم خود بلا کر ان کوکھانا کھلا دیتے۔لیکن جماعت غریب ہے اور اس پر جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں وہ بڑی اہم ہیں اس لئے اس قسم کے لوگوں کو کھا نا کھلانے سے ہم معذور ہیں۔ہمیں اصولی حکم یہ ملا ہے کہ تمہیں خدا دیتا تو بہت ہے اشاعت اسلام کے لئے اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھنا کہ تمہارا ایک دھیلا بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ہم دھیلے دھیلے کی حفاظت کر کے ان برکتوں کو جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں سمیٹے ہوتے ہیں اور دھیلے دھیلے کی ہمیں حفاظت کرتے رہنا چاہیے۔میں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کھانا یا کوئی اور چیز کسی صورت میں بھی ضائع نہیں ہونی چاہیے۔ایک ایک روٹی ایک ایک لقمہ کا صحیح استعمال ہونا چاہیے ورنہ وہ برکت جاتی رہے گی جو ہماری روٹی میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے اور میں