خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 562
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۶۲ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء جاتے ہیں کہ عورتیں ایک طرف چل رہی ہیں اور مرد ایک طرف چل رہے ہیں۔ہر ایک کا منہ اپنے سامنے ہے اور ہر ایک عورت کو بھی شیطان سے امن حاصل ہے اور ہر ایک مرد کو بھی شیطان سے امن حاصل ہے بڑی پاکیزہ فضا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ لڑائی اور جھگڑا ہر وقت اور ہر مقام پر برا ہے لیکن جہاں اس قسم کے مقدس دینی اجتماعات ہوں وہاں جھگڑے اور فساد سے بہر حال بچنا چاہیے اور اس طرف عام حالات کی نسبت بھی زیادہ توجہ دینی چاہیے۔اس قسم کے عظیم اجتماعات میں جہاں ۹۰،۸۰ ہزار مردوزن دینِ اسلام کی باتیں سننے کے لئے جمع ہوں یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں شیطان اپنے بعض چیلے بھی بھیجتا ہے۔جو بے دینی اور نافرمانی کی باتیں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جہاں اس قسم کے دینی اجتماع ہوں۔وہاں خاص طور پر ہر قسم کی نافرمانی اور فسق و فجور سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کوئی ایسا شخص نظر آئے جو اس نیت سے اس اجتماع میں شامل ہوا ہے کہ وہ فسق اور اباء کی باتیں پھیلائے۔تو فوراً نظام کو مطلع کیا جانا چاہیے تا کہ ایسے لوگوں کے فتنے کو شروع سے ہی دبا دیا جائے اور کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت تقویٰ کے ایک بلند معیار پر قائم ہے۔محض اس کے فضل سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور اس قوت قدسیہ کو حاصل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے جو فیضان جاری ہوا اس کے نتیجہ میں۔الْحَمدُ لِلَّهِ اور پھر ان دو پاک وجودوں کی سب تعریف ہے کہ جو ایک استاد کی حیثیت سے دنیا میں نازل ہوا اور مبعوث کیا گیا صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک وہ جو بہترین شاگرد کی حیثیت سے دنیا میں پیدا ہوا اور اس مقدس استاد سے شاگرد نے ہر فیض پایا اور ہر فیض پھر آگے جاری کیا۔پس جماعت بحیثیت جماعت ایک بلند معیار پر قائم ہے۔فسق و فجور کی ایسی باتوں سے ہمیں یہ خطرہ یا اندیشہ نہیں ہوتا کہ کسی شخص کو وہ گمراہ کر دیں گی یا ان کی ٹھوکر کا باعث بنیں گی۔ہمارے دل میں جو خطرہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ (خدانخواستہ) بعض جو شیلے آدمی شائد اپنے