خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 552 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 552

خطبات ناصر جلد اول ۵۵۲ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء ہی خدا کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔دعائیں کرتے ہوئے کہ اے خدا! ہم کمزور ہی سہی مگر تیری صفات تو کمزور نہیں۔تو تمام قدرتوں والا تو تمام طاقتوں والا تو ہر قسم کی رحمتوں والا ہے، تمام رحمتوں اور برکات کا سرچشمہ اور منبع تو ہے۔ہم بنجر زمین ہی سہی مگر جس بنجر زمین پر تیری رحمتوں کے چشمے ہیں گے وہ یقینا یقیناً جنت کے باغات بن جائیں گے۔پس اے خدا! اپنی رحمت کے چشموں سے ہماری بنجر زمین کو سیراب کر۔اے خدا! ہمارے ذریعہ سے ان وعدوں کو پورا کر جو تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیئے تھے۔اے خدا ہمیں یہ توفیق عطا کر کہ ہم ان قربانیوں کو تیرے حضور پیش کریں جو تو اپنی اس جماعت سے چاہتا ہے اور اے خدا! ہماری زندگیوں میں وہ دن لا جب ہم یہ دیکھیں کہ تیری تو حید دنیا میں قائم ہو چکی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام نے تمام ادیان باطلہ کو شکست دے دی ہے۔اے خدا! تیرے نور سے یہ دنیا بھر جائے اور تیری نورانی تجلی سے ہمارے سینے منور ہو جا ئیں۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۴ /جنوری ۱۹۶۷ ء صفحه ۲ تا ۵)