خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 551 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 551

خطبات ناصر جلد اوّل 1♡♡ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء کو نباہنے کی توفیق عطا کرے۔نَنى عِبَادِى إِنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ میں جس بشارت کی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔وَاَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ میں جس شدید عذاب سے بچنے کے لئے ہمیں تلقین کی گئی ہے۔اس کے پیش نظر میری توجہ اس طرف بھی پھری کہ یہ سال وہ ہے کہ جو رمضان کے مہینہ میں ختم ہو رہا ہے اور رمضان کے مہینہ سے ہی نیا سال شروع ہو رہا ہے تو اس میں شاید اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تمہاری قربانیوں کا زمانہ ، خدا کے لئے ، خدا کی خاطر بھوکے رہنے کا زمانہ ، خدا کی رضا کی خاطر راتوں کے آرام کو قربان کرنے کا زمانہ مسلسل چلنے والا ہے کہ ایک سال انہی قربانیوں پر ختم ہورہا ہے اور دوسرا سال انہی قربانیوں سے شروع ہو رہا ہے لیکن اس میں خوشی کی بات یہ ہے کہ جن قربانیوں سے ہمارا سال شروع ہو رہا ہے یہ وہ قربانیاں ہیں جن میں رمضان کا آخری عشرہ بھی ہے جس میں لَیلَةُ الْقَدْرِ پائی جاتی ہے۔تو خدا کرے کہ نیا سال جو ہم پہ چڑھ رہا ہے وہ ہمارے لئے لَيْلَةُ الْقَدْرِ لانے کا موجب بھی بنے۔یعنی وہ وعدے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہمیں دیئے گئے۔( غلبہ اسلام کے وعدے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام بنی نوع انسان کے دلوں میں پیدا ہو جانے کے وعدے اور توحید خالص کے قیام کے وعدے) ان وعدوں کے پورا ہونے کا ان وعدوں کے متعلق قضاء و قدر کے نزول کا زمانہ ، خدا کرے، اس نئے سال سے شروع ہو جائے اور خدا کرے کہ اتنی عظیم بشارتوں کے نتیجہ میں جو اہم ذمہ داریاں خدا کے نیک بندوں پر عائد ہوتی ہیں۔وہ ہمیں محض اپنے فضل اور رحم سے توفیق دے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو نباہنے والے ہوں اور فرشتے تمام عالمین میں یک زبان ہو کر اس صدا کو بلند کریں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برگزیدہ جماعت ہے جن پر خدا تعالیٰ کی ابدی شریعت کی یہ آیت پوری ہوتی ہے نبی عِبَادِی آئی دو اَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیم اور خدا کی مغفرت اور خدا کی رحمت کے یہ لوگ وارث ہوئے ہیں۔خدا کرے کہ خدا کے فضل سے ایسا ہو ورنہ ہم انفرادی طور پر اور جماعتی لحاظ سے بھی بڑے کمزور ہیں۔ہم جب اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں تو شرمندگی کے آنسوؤں سے ہمارے دامن تر ہوتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی راہ میں جو ہمیں کرنا چاہیے تھا وہ ہم نے نہیں کیا اور تہی دست