خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 535
خطبات ناصر جلد اول ۵۳۵ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء معانی ہمارے مختلف دوستوں کے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں اور جماعت کے دوستوں کے سامنے بھی بیان ہوتے رہتے ہیں۔لیکن جب میں اس سلسلہ میں کل سوچ رہا تھا تو میری توجہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف گئی إذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَأَفْسَحُوا يَفْسَح اللهُ لَكُمْ - (المجادلة : ١٢) فسح کے مصدر اور ف س ح کے مادہ کے معنی بھی لغوی لحاظ سے وسعت کے ہیں اور یہاں قران کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تمہیں کہا جائے کہ تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کرو تو تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کر دیا کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رحم اور اپنے فضل سے تمہارے لئے حقیقی وسعتیں پیدا کرتا چلا جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام وسعُ مَكَانَكَ میں ایک زبر دست بشارت بھی پائی جاتی ہے اور اس آیہ کریمہ کی روشنی میں اس الہام کے یہ معنی ہوں گے کہ جس وقت خدا تعالیٰ یا خدا تعالیٰ کے سلسلہ کو ضرورت ہو اس وقت اے مرکز کے رہنے والو! اے وہ لوگو! جن کے مکانات مرکز میں ہیں۔تم اس قسم کی وسعت اپنے گھروں میں پیدا کر لیا کرو جس قسم کی وسعت مجالس میں پیدا کرنے کا اس آیہ کریمہ میں کہا گیا ہے اب اس آیہ کریمہ میں جس وسعت کا ذکر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجلس پہلے ۲۰۲۰ فٹ کے ایریا اور جگہ میں ہو رہی تھی اب وہ ۵۰×۵۰ فٹ کے ایریا میں ہوتی ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے ۲۰×۲۰ فٹ کے ایریا میں ۲۰ آدمی بیٹھے ہوئے تھے تو اب اس قدر جگہ میں اس حکم کی تعمیل کے نتیجہ میں مثلاً تیس یا چالیس آدمی بیٹھ گئے پس تفتَحُوا یعنی کھل جاؤ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تنگ ہو کر بیٹھوتا دوسرے لوگ بھی بیٹھ جائیں دوسرے آنے والوں کے لئے جگہ کھول دیں قرآن کریم نے ہمیں یہاں بتایا ہے کہ جگہ دو طرح کھلتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ جس شخص کے مکان میں تین کمرے ہیں۔وہ تین کمرے اور بنالے اور اگر تین کمروں کی بجائے چھ کمرے ہو جائیں تو اس جگہ میں وسعت پیدا ہو جائے گی یعنی پہلے تین کمرے تھے اب چھ کمرے ہو گئے اور ایسے موقع پر مکان میں وسعت اس طرح بھی پیدا ہوتی ہے کہ پہلے اس شخص نے تین کمروں میں سے دو کمرے اپنے گھر کے لئے رکھے تھے اور ایک کمرہ جلسہ سالانہ کے