خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 517

خطبات ناصر جلد اول ۵۱۷ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء کے اندر غائب ہو گئیں اور سوائے محبت کے اور کچھ نہیں رہا۔یہی حال ہر عہدیدار کا ہونا چاہیے۔اگر آپ خدا کے ان پیارے بندوں کو انتہائی محبت نہیں دے سکتے تو آپ عہدیدار رہنے کے قابل ہی نہیں۔کسی شخص کے دل میں یہ وہم بھی پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی عہد یدار اس سے پیار نہیں کرتا، اس سے ہمدردی نہیں رکھتا، اس کی غمخواری نہیں کرتا۔وقت پر اس کے کام نہیں آئے گا۔ہر عہد یدار کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف بھول جائے اور اپنے بھائیوں کی تکلیف کا اسے خیال رہے اگر یہ کیفیت ہو تو پھر وہاں بشاشت کے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جہاں عہدیدار ڈھونڈ ڈھونڈ کر یہ کام کریں کہ کسی کو دوائی کی ضرورت ہے وہ دوائی پہنچائی جائے۔کسی کی بیماری کے نتیجہ میں اس کے بعض کام رکے ہوئے ہیں۔وہ کام کر دیئے جائیں کسی کو مالی تکلیف ہے اسے اس تکلیف سے نکالا جائے۔یہ صحیح ہے کہ ہم نے بادشاہتیں نہیں دینی ہیں۔لیکن ہر احمدی کی کم سے کم ضرورت بہر حال ہم نے پوری کرنی ہے۔اس سے وہ اس قدر سیکوریٹی اور اطمینان محسوس کرے گا کہ خود بخوداس کے دل میں بشاشت محسوس ہو گی۔انفرادی طور پر ہی نہیں ( گو وہ بھی بہت ضروری ہے) انتظامی لحاظ سے بھی ، ہر نظام کو خواہ وہ بنیادی ہو یا ذیلی ہو یقین ہونا چاہیے کہ دوسرے نظام میرے ساتھ سو فی صدی تعاون کرنے والے اور میرے کاموں کو آگے سے آگے بڑھانے میں میرے ممد اور معاون اور ناصر ہیں۔میرے راستے میں روکیں پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔جب ہر نظام اور ہر نظام کے عہد یداروں کے دماغ میں یہ بات آجائے گی اور یہ ذہنیت سب میں پیدا ہو جائے گی تو ہمارے یہ سارے نظام ایک جست میں ہی کہیں سے کہیں پہنچ جائیں گے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں بعض دفعہ بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔بدظنی تو کسی کے لئے بھی جائز نہیں لیکن عہد یداروں کے لئے تو بڑی ہی مہلک چیز ہے۔جس طرح اگر کوئی کسی کے پیچھے سے السلام علیکم کہے تو آپ کو خود کو اتنا بڑا نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ سلام آپ کو کیا گیا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی کو