خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 492
خطبات ناصر جلد اول ۴۹۲ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست خدام میں سے میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے جو فیصلہ میرے خلاف کیا ہے درست نہیں ہے اور میں آپ کے فیصلہ کے خلاف حضرت مصلح موعود (رضی اللہ عنہ ) کے پاس اپیل کرنا چاہتا ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ خدام الاحمدیہ کے قواعد کی رو سے آپ صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے فیصلہ کے خلاف خلیفہ وقت کے حضور پیل نہیں کر سکتے۔کیونکہ اپیل ایک قانونی حق ہے۔جب قانون وہ حق دے تو کسی کو ملتا ہے اور اگر قانون وہ حق نہ دے تو اسے نہیں ملتا۔خدام الاحمدیہ کے متعلق جو قواعد حضرت مصلح موعودؓ نے منظور کئے ہوئے ہیں ان میں حضور نے خدام کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ صدر مجلس کے فیصلہ کے خلاف خلیفہ وقت کے پاس اپیل کریں۔لیکن میں نے ان کو خود بتایا کہ خلیفہ وقت کا دروازہ شکایت کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔آپ اپیل تو نہیں کر سکتے کیونکہ قانونی چیز ہے لیکن آپ میرے فیصلہ کے خلاف شکایت کر سکتے ہیں۔یہ سن کر انہوں نے کہا میں سوچوں گا لیکن ابھی میرا جی شکایت کرنے کو نہیں چاہتا۔ہاں اگر اپیل کرنے کا حق ہوتا تو میں اپیل کر ڈالتا۔لیکن بعد میں انہوں نے سوچ کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ شکایت کریں گے۔ہزار ہا واقعات گزرے ہیں ان میں سے یہ واقعہ مجھے اس لئے یا درہا ہے کہ اس کا میری طبیعت پر بڑا گہرا اثر ہوا۔انہوں نے حضور رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جو شکایت لکھی اس میں انہوں نے کوئی بات نہیں چھپائی۔نہ اپنے متعلق نہ ہمارے متعلق۔سارے واقعات کی پوری تصویر انہوں نے حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔اس پر حضرت صاحب (رضی اللہ عنہ ) کا یہ نوٹ انہیں واپس ملا کہ ان حالات میں صدر مجلس تمہارے خلاف یہ فیصلہ نہ کرتا تو اور کیا ہوتا؟“ اس سے ان کو بھی تسلی ہو گئی۔اگر وہ حضرت صاحب کو مختصرسی یا مشتبہ ہی یا غلط رپورٹ دیتے تو حضور ( رضی اللہ عنہ ) اس کے متعلق ہم سے رپورٹیں لیتے اس طرح حضور کا وقت بھی ضائع ہوتا۔مگر اس نوجوان نے نہایت دیانت داری کے ساتھ سارے کے سارے صحیح حالات بیان کر دئے اور جب اس کی شکایت پر وہ نوٹ آیا تو اس کو تسلی ہو گئی۔کیونکہ خلیفہ وقت کے فیصلے سے