خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 491
خطبات ناصر جلد اول ۴۹۱ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء آتی ہے میں بھی پھاڑ کر پھینک دیا کرتا ہوں۔اس سفر کے دوران بھی بعض شکائتیں بے نام آئی ہیں۔میں نے انہیں پھاڑا اور پھینک دیا۔کیونکہ جب تک کوئی شخص جرات کے ساتھ اپنا نام نہیں لکھتا بلکہ بز دلی دکھاتے ہوئے اپنے نام کو چھپاتا ہے۔اس کی شکایت قابل اعتناء نہیں ہوتی۔اسی طرح یہ لکھ دینا کہ ہم تمام مزار عین ناصر آباد یا محمود آباد یا فلاں نگر یہ شکایت کرتے ہیں یہ بھی غلط طریق ہے۔یہ ضروری ہے کہ جو آدمی شکایت کرے یا شکایت کریں وہ اپنا نام بھی لکھے یا لکھیں۔دوسرے یہ کہ جو کچھ لکھا جائے وہ صیح اور درست ہو۔اسی سفر میں ایک دوست نے ناصر آباد میں میرے پاس ایک شکایت کی اور بظاہر دو اور آدمیوں کے بھی دستخط کرائے یا انگوٹھے لگوائے ان میں سے جب ایک دوست کو پوچھا گیا کہ آپ کو کیا شکایت پیدا ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ کسی شخص نے کوئی شکایت لکھی ہے اور میری طرف سے خواہ مخواہ انگوٹھا لگا دیا ہے۔تو اگر اس قسم کی غلط بات ابتدائی تحقیق میں ہی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم شکایت پرغور ہی نہیں کرتے کیونکہ شکایت کنندہ نے خود ہی ایک غلط بات لکھ کر اپنے خلاف فیصلہ کرا دیا۔اس کے برعکس میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض لوگ اتنی صفائی اور تفصیل سے بات لکھتے ہیں کہ جو ان کی غلطی ہو اسے بھی سامنے لے آتے ہیں اور ان کے خیال میں جو دوسرے کی غلطی ہو وہ بھی بغیر کسی پیچ ، بغیر کسی مبالغہ اور بغیر کسی خلاف واقع بات بیان کرنے کے سامنے رکھ دیتے ہیں بڑی آسانی رہتی ہے۔اس پیش کردہ مفصل معاملہ سے انسان فورا صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے اور اس کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔اگر واقع میں کوئی شکایت ہو بھی اور تحقیق کرنے والے افسر کو بھی وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔لوگ جانتے ہیں کہ قادیان کے زمانہ میں ایک لمبے عرصہ تک میں مجلس خدام الاحمدیہ کا صدر بھی رہا ہوں اور جو اس قسم کے منتظم ہوتے ہیں ان کے خلاف شکایات پیدا ہو جانا عام بات ہے ہزاروں ہزار آدمی سے واسطہ پڑتا ہے۔کبھی انسان غلطی کرتا ہے کبھی شکایت کرنے والا غلطی کر رہا