خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 487

خطبات ناصر جلد اول ۴۸۷ خطبہ جمعہ اا نومبر ۱۹۶۶ء دکھاتا رہا ہے اور ہزاروں مرد بھی ایسے ہیں۔تو ہمیں اس مقام قرب کی قدر کرنی چاہیے۔اور ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ دنیا میں بھی ہمیں دعا کے نتیجہ میں نیک نیتی اور خلوص کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل اور رحم سے (نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے) ہمیں اتنا دے کہ دنیا اس کی وجہ سے بھی ہم پر رشک کرنے لگ جائے اور تبلیغ کی بھی ہمیں اتنی توفیق دے کہ وہ دن جلد آئیں کہ جب اسلام تمام دنیا پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ کی خالص توحید دنیا میں قائم ہو جائے اور بنی نوع انسان خالص توحید پر قائم ہو کر خالص توحید کی برکات سے پوری طرح حصہ لینا شروع کر دیں۔آپ کو جو جماعت کی اسٹیٹس پر کام کر رہے ہیں یا درکھنا چاہیے کہ اخباروں میں بڑا شور ہے کہ ہم نے اب ایسے بیچ حاصل کئے ہیں کہ جن سے پچاس ساٹھ یا ستر من گندم فی ایکڑ پیدا ہوگی۔حکومت کے فارم اگر دو یا تین یا چار سال کے بعد اتنی پیداوار حاصل کر سکیں تو آپ لوگوں کو اپنی محنت و کوشش اور دعاؤں سے کام لیتے ہوئے ان سے پہلے کامیاب ہو جانا چاہیے۔بلکہ ہر ایک احمدی کے ایک کلہ سے اتنا غلہ پیدا ہونا چاہیے پھر وہ لوگ تسلیم کر لیں گے کہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے ورنہ وہ آپ کے دل کو اور کشوف ورڈ یا سے جو خدا تعالیٰ کا پیار ظاہر ہوتا ہے اسے نہیں دیکھتے کیونکہ ان کی نگاہ ظاہر بین ہے۔اگر آپ کی کوشش اس رنگ میں ہو کہ آپ بل چلاتے ہوئے بھی دعا کر رہے ہوں اور اس کے نتیجہ میں آپ کی زمین دوسرے لوگوں کی زمین کی نسبت زیادہ غلہ پیدا کر رہی ہو تو وہ حیران ہوں گے اور کہیں گے معلوم نہیں کیا بات ہے ان کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ضرور کوئی گر ہے ترقی کا ، جو ان کو مل گیا ہے۔میں آپ کے دل میں دنیا کی محبت پیدا نہیں کرنا چاہتا میں تو یہ چاہتا ہوں کہ آپ دنیا کمائیں اور دین کی راہ میں قربانیاں دیتے چلے جائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک وقت میں اتنی دولت دی تھی کہ آپ اس کا تخیل بھی نہیں کر سکتے۔مگران ایثار پیشہ فدائیوں نے یہ سب دولت خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹا دی تھی۔میری بھی آپ کے حق میں یہی دعا ہے کہ خدا کرے کہ دنیا کی دولت آپ کو اتنی ملے اتنی