خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 469
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶۹ خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء پھر اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے رہنے والوں کے دلوں کو اسلام کے لئے کھولا اور ان کے سینوں کو قرآن کریم کے نور سے منور کیا۔جب اسلام مدینہ میں کچھ طاقت پکڑنے لگا تو کفار نے اپنے بد منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا پختہ ارادہ کر لیا۔انہوں نے سمجھا کہ مدینہ کے چند سو آدمی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہم تلوار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بآسانی شہید کر دیں گے اور اسلام کو مٹا دیں گے۔چنانچہ مکہ والے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور اس وقت اس سلسلہ معجزات کی بنیا درکھی گئی۔جس کے نتیجہ میں اسلام تمام دنیا پر غالب آ گیا اور وہ سلسلہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت اور طاقت کے معجزانہ اظہار سے کفار کو بتایا کہ خواہ تمہاری طاقت کتنی ہی کیوں نہ ہو اور مسلمانوں کی کمزوری خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو۔تم اپنے دنیوی اموال اور دنیوی طاقت کے باوجود اسلام پر غالب نہیں آسکتے۔چنانچہ اس سلسلہ معجزات کا دروازہ بدر کے مقام پر کھولا گیا اور بدر کے مقام پر مستقبل کے واقعات کی ایک تصویر دنیا نے دیکھی کہ اگر خدا کی طاقت کسی قوم اور سلسلہ کے پیچھے ہو تو ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس کو فنا نہیں کر سکتیں۔چنانچہ اسلام کی تاریخ کے پہلے تیس چالیس سال میں (اور پھر یہ سلسلہ کئی سو سال تک آگے بھی چلا ) کفر نے تلوار کے زور پر اسلام کو مٹانا چاہا اور خدا تعالیٰ نے کمزور مسلمانوں کو جو اخلاص کے ساتھ ہر میدان میں کو دے کامیاب کیا اور کفر کی تلوار کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس طرح دنیا پر ثابت کر دیا کہ اسلام دنیا میں مٹنے کے لئے قائم نہیں کیا گیا۔جتنی طاقت تم اس کے خلاف استعمال کر سکتے تھے تم نے کی۔جتنی دفعہ تم نے چاہا اور شیطان نے تمہیں ورغلایا تم اسلام کے خلاف صف آرا ہوئے لیکن تمہاری ان صفوں کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے الٹ کر رکھ دیا۔یہ اسلام کی ابتدائی زمانہ کی تاریخ کی مختصر سی تصویر ہے۔جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب اسلام دنیا میں آیا تو بجائے اس کے کہ دنیا قرآنی علوم سے فائدہ اٹھاتی دنیوی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی ترقی کرتی ، اس نے طاقت کے زور سے اسلام کے نور اور قرآن کریم کی چمک کو مٹانا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت کر دیا کہ قرآن کریم ایک نور ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نور ہے اور کسی الہی نور کو دنیا کی کوئی تلوار، دنیا کی کوئی بندوق، دنیا کا کوئی بم اور دنیا کا کوئی