خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 468

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶۸ خطبہ جمعہ ۱۱ نومبر ۱۹۶۶ء معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو دو ترقیاں حاصل ہوئی تھیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو تنزل کے ایک دور میں سے بھی گزرنا تھا کیونکہ اگر تنزل کا دور مقدر نہ ہوتا تو دو تر قیوں کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔پھر ایک ہی ترقی اسلام کو حاصل ہوتی۔ہم اس حقیقت کو اپنے عام محاورہ میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں۔پہلی ترقی اس زمانہ کے لحاظ سے اس طرح ظہور پذیر ہوئی کہ دشمن نے جو اس زمانہ میں علم میں اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا بلکہ عام طور پر جہالت کا ہی دور دورہ تھا۔خواہ اس زمانہ کے لوگ اہل کتاب ہوں ، مشرکین ہوں ، خواہ بد مذہب ہوں انہیں مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے یا دنیوی لحاظ سے عموماً وہ علم سے محروم تھے اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب آپؐ پر نازل کی۔تو ان اقوام نے جو دنیا کے مختلف مذہبی فرقوں میں بٹی ہوئی تھیں جہاں جہاں اسلام پہنچا یہ سمجھا کہ ہم اپنی طاقت کے بل پر اسلام کو مٹا کر رکھ دیں گے چنانچہ بالکل ابتدائی زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے جو دن مکہ میں گزارے۔ان میں آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو انتہائی تکالیف پہنچائی گئیں کفار یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان تکالیف کی شدت کو انتہا تک پہنچا دیا۔تو یہ بھی بھر لوگ اپنے مذہب سے تو بہ کر لیں گے اور پھر ان بتوں کے آگے سجدہ کرنے لگ جائیں گے جن کو یہ چھوڑ چکے ہیں۔لیکن مسلمان کے دل میں جب حقیقتاً بشاشت ایمان پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے ایمان کے اس مقام سے ہٹا نہیں سکتی۔سو تکالیف جتنی وہ پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچائیں۔مسلمانوں پر آزمائش کی جتنی گھڑیاں وہ لا سکتے تھے لائے۔سخت سے سخت امتحانوں میں سے مسلمانوں کو گزرنا پڑا لیکن ان کے قدم ڈگمگائے نہیں۔تب تمام حالات کو مدنظر رکھ کر کفار نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف تکالیف پہنچانا کافی نہیں۔بس ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو جب انہوں نے اسلام کو مٹانے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جاؤ۔چنانچہ آپ نے گفتی کے چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔