خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 443
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۴۳ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِیم کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے مجاہدہ کیا اس رنگ میں کہ انہوں نے خواہشات نفسانی کو خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑا۔اس رنگ میں کہ انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کی خوشنودی کے حصول کے لئے گناہوں سے اجتناب کیا۔( هَاجَرُوا ) اور انہوں نے اپنے ماحول، اپنے املاک (اپنی جائدادوں ) اپنے کنبہ اور اپنے شہر اور اپنے علاقہ کو خدا تعالیٰ کی خاطر ترک کیا اور خدا تعالیٰ کی رضاء کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے۔وَجهَدُوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے نیکی کے راستوں پر شوق اور بشاشت کے ساتھ قدم مارا - أوليكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ الله یہی وہ لوگ ہیں جو امید رکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں حاصل ہو جائے گی۔أولبِكَ يَرْجُونَ رَحمت اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں۔یہ نہیں فرما یا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ضرور مل جائے گی۔پھر اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جو شخص بدیوں کو ترک نہیں کرتا اور نیکیوں کو اختیار نہیں کرتا۔وہ یہ امید نہیں رکھ سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے رحمت کے ساتھ سلوک کرے گا۔یہ امید کہ میرا رب میرے ساتھ رحمت کا سلوک کرے گا وہی رکھ سکتا ہے جو بدیوں کو ترک کرتا اور نیکی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا کہ جب تم بدیوں کو ترک کر کے اور نیکیوں کو اختیار کر کے میری رحمت کے امیدوار بن جاؤ گے تو پھر میں اپنے فضل کے ساتھ حقیقتا اور واقعتا تمہیں اپنی رحمت عطا کر دوں گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ ز يُحِبُّونَةٌ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لايم ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - (المائدة : ۵۵) فرمایا کہ بعض انسان تو ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار کر جاتے ہیں اور بعض ایمان لاتے اور پھر پختگی اور استقلال اور فدائیت کے ساتھ اس پر قائم ہو جاتے ہیں۔