خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 442
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۴۲ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء گزشتہ دنوں ان خطبات کو دوبارہ پڑھا اور ان پر غور کیا تو میری توجہ اس طرف گئی کہ تمام مطالبات جو تحریک جدید کے ضمن میں اس سکیم کے ماتحت آپ نے جماعت احمدیہ سے کئے ہیں۔وہ سارے کے سارے قرآن مجید کے پیش کردہ مطالبہ جہاد کی مختلف شقیں ہیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اے وہ لوگو! جو دعوے کرتے ہو کہ ہم خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس تعلیم پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لائے ہیں۔ایمان لاتے ہیں۔آؤ میں ایسی تجارت کی نشان دہی کروں کہ اگر تم یہ سودا اپنے رب سے کر لو۔تو تم اس عذاب الیم سے بیچ جاؤ گے، جو ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو اس قسم کا سودا اور اس قسم کی تجارت اپنے پیدا کرنے والے سے نہیں کرتے فرمایا۔تُؤْمِنُونَ بِاللہ ایک تو یہ کہ تم اپنے دل اور زبان اور اپنی کوششوں سے یہ ثابت کرو کہ تم واقعہ میں ایمان لائے ہو۔یہ تمہارا محض ایک کھوکھلا اور زبانی دعوئی ہی نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ یہ کہ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِیلِ اللهِ تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد اور مجاہدہ کرو۔سبیل اس راہ کو کہتے ہیں جو کسی خاص جگہ پر پہنچانے والی ہو۔تو سبیل اللہ وہ راستہ ہے۔جو خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔وہ راہ جو خدا تعالیٰ کا مقرب بنادیتی ہے۔وہ راہ جو خدا کی رضا کے حصول میں ممد و معاون ہے وہ راہ جس کے آخر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو مل جاتی ہے اور پھر انسان بھی اپنے تمام دل، اپنی تمام روح اور اپنے تمام حواس کے ساتھ اپنے مولے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔بلکہ اس کے روئیں روئیں سے اپنے رب کی محبت پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔تو اس آیت میں یہ فرمایا کہ جس تجارت کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں اور جس کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اپنی جانوں کو مجاہدہ میں ڈالو اور تمہارا یہ مجاہدہ اور تمہارا یہ جہاد اموال کے ذریعہ سے بھی ہو اور تمہارے نفسوس کے ذریعہ سے بھی ہو ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اور اگر تمہیں حقیقت کا علم ہو جائے تو تم سمجھ جاؤ کہ دراصل اسی چیز میں تمہاری بھلائی ہے۔اس خیر لکم کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۱۹ میں یوں فرمائی ہے۔