خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 429
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۲۹ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اور رضائے الہی کی باعزت جنتوں میں اللہ تعالیٰ ان کا ٹھکانہ بناتا ہے۔پس یہاں ایک طرف یہ فرما یا کہ اس دنیا میں نہ کسی شخص نے باقی رہنا ہے اور نہ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس کے اعمال نے باقی رہنا ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ یہاں کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ تم پر کلی فنا وارد نہیں ہوگی بلکہ تمہاری ارواح کو دوسرے اجسام دے کر ایک دوسری دنیا میں زندہ رکھا جائے گا۔اس لئے بے فکر نہ ہونا یہ سمجھتے ہوئے کہ مرنے کے ساتھ تمہارا معاملہ خدا تعالیٰ سے کلینڈ کٹ چکا ہے وہ کٹا نہیں بلکہ اے انسانو اور اے آدم زادو! تمہارے ساتھ ہمارا واسطہ ابد تک قائم رہے گا۔تمہاری ارواح کو ہم نے زندہ رکھنا ہے۔یہ خدائے ذوالجلال اور ذ والا کرام کا فیصلہ ہے۔وجه ربك “ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اعمال جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اور اس کی توجہ اور رضا کو جذب کرنے کے لئے بجالاتا ہے۔تو یہاں یہ فرمایا کہ انسان کے تمام اعمال ہلاک کر دئے جاتے ہیں سوائے ان اعمال کے جن کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خواہش رکھتا ہو جو خالصہ خدا تعالیٰ کے لئے کئے گئے ہوں۔اس کی رضا جوئی میں بجالائے گئے ہوں ایسے اعمال پر فتاوار نہیں ہوتی۔جو اعمال ایسے نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان پر ہمارے منشا اور قانون کے مطابق فنا وارد ہو جاتی ہے ایسے اعمال کی فنا اور ان کے نیست و نابود کئے جانے کے متعلق جو باتیں ہمیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایک تو خدا تعالیٰ ایسے اعمال کے بجالانے والوں کو اس دنیا میں ہی سزادے کر ان کے بعض اعمال کو باطل کر دیتا ہے۔یعنی کچھ بد اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کو ان کی سزا اس دنیا میں ہی مل جاتی ہے اور اُخروی زندگی میں ان کی سزا پھر اسے نہیں ملتی۔ہاں دوسرے ایسے بد اعمال کی سزا اسے اُخروی زندگی میں ملتی ہے جن کی سزا سے اس دنیا میں نہیں مل چکی ہوتی۔دوسرے خدا تعالیٰ ایسے بدا اعمال کو اس طرح بھی ہلاک کرتا ہے کہ ان کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو ان کے بجالانے والے نکالنا چاہتے ہیں۔مثلاً وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کے رسول اور اس کے سلسلوں کو ہلاک کرنے اور انہیں مٹانے کے لئے منکرین بجالاتے ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ بے نتیجہ کر دیتا ہے اور اس طرح ان معنوں کی رو سے ان پر ہلاکت اور فنا وارد ہو جاتی ہے۔