خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 428
خطبات ناصر جلد اول ۴۲۸ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء زمین پر ہر چیز جو پائی جاتی ہے وہ فنا ہونے والی ہے۔سوائے ان باتوں اشیاء اور وجودوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ باقی رکھنا چاہے وہ خدا ذو الجلال بھی ہے اور ذوالا کرام بھی ہے۔ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہی وقت میں اعلان فنا بھی کیا ہے اور اعلان بقا بھی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو کلیتاً فنا ہونے سے محفوظ رکھا ہے اور اس نے ان چیزوں کو اپنی مشیت کے ماتحت ایک بقا عطا کی ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور جو دو آیات میں نے پڑھی ہیں وہ بھی مختصراً اس کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ ایک تو انسان کی روح مرنے کے بعد بقا حاصل کرتی ہے اور دوسرے قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اعمال صالحہ کو بھی باقی رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ ان دونوں آیات میں فرماتا ہے کہ ہر چیز جو اس دنیا میں ہے۔آخر یہاں سے چلی جائے گی۔نہ انسان یہاں رہے گا کہ وہ بھی فانی ہے اور نہ اس کے اعمال۔جہاں تک مرنے والے کی ذات کا تعلق ہے اس دنیا میں باقی رہیں گے بلکہ وہ اعمال مرنے والے کے ساتھ ہی دوسرے جہاں میں لے جائے جائیں گے۔كُلٌّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَ يَبْقَى وَجُهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ والاكرام - ہر چیز جو زمین پر پائی جاتی ہے فانی ہے۔سوائے ان اشیاء اور وجودوں کے جنہیں خدا تعالی باقی رکھنا چاہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات کے ایک معنی تفسیر صغیر میں یہی کئے ہیں کہ اس سرزمین پر جو کوئی بھی ہے آخر ہلاک ہونے والا ہے اور صرف وہ بچتا ہے۔جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔پس وہ لوگ اپنے ان اعمال کے ساتھ جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم رکھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بقا حاصل کرتے ہیں۔یعنی ان کو بقا حاصل ہوتی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں (جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ) صاحب عزت وہی ہوتے ہیں جو صاحب تقویٰ ہوں جیسا کہ فرمایا۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنقُكُمُ (الحجرات : (۱۴) یعنی خدا تعالی کی نگاہ میں وہی عزت پاتے ہیں جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصولِ تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن ہوتے ہیں