خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 414
خطبات ناصر جلد اول ۴۱۴ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء ہوں تو گیارہ سال اور اگر چھوٹے ہیں تو تیرہ سال کا عرصہ ان کی تربیت کا گزر نہ جائے۔اس وقت تک عارضی واقفین کی ضرورت رہے گی۔کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم اس قسم کی کمزور جماعتوں سے جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔غفلت برتیں اور میرے لئے یہ ناممکن ہے کہ میں چپ ہو کر بیٹھ جاؤں اور ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے دن گزاروں کہ کہیں مجھ پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل نہ ہو۔اس لئے کہ میں اس قسم کی جماعتوں کو جگانے کا انتظام نہیں کر رہا۔اگر آپ مجھے واقفین نہیں دیں گے یا خود وقف کے لئے آگے نہیں آئیں گے تو اللہ تعالیٰ کوئی اور سامان پیدا کر دے گا۔لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے کیوں محروم ہور ہے ہیں۔پس میں آج پھر جماعت کو بڑے زور کے ساتھ اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے کم از کم پانچ ہزار واقفین کی ضرورت ہے جو ہر سال دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جو واقفین عارضی وقف کی تحریک کے ماتحت باہر گئے ہیں۔ان میں ہر عمر اور علمی معیار کے لوگ شامل تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تاثر یہ ہے کہ بڑی کثرت کے ساتھ انہوں نے اِستغفار اور لاحول پڑھا۔یعنی ان کے دل کے اندر یہ احساس اُجاگر ہوا کہ ہم نے غفلت میں دن گزارے ہیں۔ہم سے بہت سی کو تا ہیاں ہوئی ہیں۔اس لئے ہمیں استغفار کرنا چاہیے۔تا اللہ تعالیٰ ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کو معاف کر کے ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے۔دوسرے یہ جو ذمہ داری کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔اس کو نباہنے کے ہم قابل نہیں۔اس طرف ہم نے کبھی توجہ نہیں کی تھی نہ ہم نے جماعت کا لٹریچر پڑھا تھا اور نہ ہم نے دعائیں کی تھیں۔اس لئے ہم سے یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہمیں حاصل نہ ہو۔جب تک کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیں قوت نہ ملے۔اس لئے انہیں اِسْتِغْفَار اور لا حول پڑھنا پڑا اور لا حول یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ( مغفرت کے بعد ) قوت حاصل کرتا ہے۔وہ استغفار کرتا ہے اور کہتا ہے۔اے اللہ ! مجھ سے جو گناہ ہو چکے ہیں تو مجھے معاف کر اور مجھے اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لے اور آئندہ بھی گناہ سے بچا اور پھر کہتا ہے اب مجھے کچھ کرنے کی توفیق بھی دے۔جب گناہ معاف ہو جائیں۔تو اگلا قدم انسان کا