خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 413
خطبات ناصر جلد اول ۴۱۳ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء بعد ہمارے کاغذوں اور رجسٹروں میں سے بھی اس جماعت کا نام مٹ جا تا اور کسی شخص کو یہ علم نہ ہوتا کہ وہاں کوئی احمدی ہے یا نہیں۔چندہ لینا اصل چیز نہیں۔گو جماعت کے افراد کے لحاظ سے مالی قربانی بھی اصل چیزوں میں سے ہے۔لیکن ہمارے لئے تو اصل چیز یہ ہے کہ دین اور اسلام کی روح ان کے اندر پیدا ہو اور ان کے دلوں میں بڑی شدت سے اس احساس کو جگایا جائے کہ بندہ خدا تعالیٰ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کا حصول ہے۔اس لئے تم دنیا کے کیڑے نہ بنو بلکہ اپنے رب کی طرف جھکو۔اور اس سے نور حاصل کرو۔اس کی رضا کو حاصل کرو۔اور اس کی بہشت میں داخل ہو جاؤ۔جس جماعت کا میں نے ذکر کیا ہے ممکن ہے کچھ عرصہ اور اس کا نام ہمارے رجسٹروں میں رہتا۔کچھ نہ کچھ چندہ وہاں سے آتا رہتا اور ہم سمجھتے کہ وہاں جماعت قائم ہے۔لیکن اگر وہ چندہ دینا بند کر دیتے تو کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ایک جماعت مٹ رہی ہے گوا بھی وہ جماعت مری نہیں۔کیونکہ وقف عارضی کے نتیجہ میں اس کی بیہوشی اور غفلت دور ہوگئی ہے اور اس میں زندگی کے آثار نمودار ہو گئے ہیں اور انشاء اللہ توقع ہے کہ نہ اس جماعت میں زندگی کے آثار ہی نمودار ہوں گے۔بلکہ اس کی ترقی کی صورت بھی نکل آئے گی۔جو واقف وہاں گئے ہیں وہ کہتے ہیں۔کہ اگر وہاں کوئی مربی رکھا جائے۔یا واقفین عارضی کے مختلف گروہ وہاں آتے رہیں۔تو وہاں اصلاح وارشاد کا میدان بھی کھلا ہے گویا واقفین عارضی کے جانے سے پہلے اس جماعت کے مرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور اب ان کے جانے کے بعد نہ صرف اس کی زندگی بلکہ اس کی ترقی کے سامان بھی نظر آنے لگ گئے ہیں۔پس جماعت یا تو مجھے ایک ہزار مربی دے (یعنی ایک ہزار بچے آج مجھے دے دے۔جنہیں تربیت دے کر مربی بنایا جائے ) اور یا ضرورت کے مطابق واقفین عارضی مہیا کرے۔اگر آپ مجھے آج ایک ہزار بچے دے دیں گے تو میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں۔بلکہ مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ان ایک ہزار بچوں کی تربیت اور تعلیم کا سامان بھی مجھے دے دے گا۔لیکن ان کی تیاری پر بھی وقت لگے گا۔یعنی جب تک وہ نو سالہ کورس پورا نہ کر لیں یا اگر وہ میٹرک پاس