خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 372

خطبات ناصر جلد اول ۳۷۲ خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء اگر قرآن کریم ان نامعلوم شریعتوں کا (جو نا معلوم تعداد میں دنیا کی طرف بھیجی گئیں اور جن کا اب نام و نشان نہیں ) نام لیتا تو ہمارے دماغوں میں بڑی الجھن پیدا ہو جاتی۔مثلاً اگر کہا جاتا کہ افریقہ میں فلاں نبی پر فلاں شریعت نازل ہوئی۔حالانکہ نہ دنیا کی تاریخ نے اس نبی کے نام کو محفوظ رکھا ہوتا ، نہ اس کی شریعت کے نام کو محفوظ رکھا ہوتا۔اور نہ اس کی کتاب کے کسی حصے کو محفوظ رکھا ہوتا تو کیسی مشکل پیش آتی ؟ تاریخ انسانی ان چیزوں کو بھلا چکی ہے۔فرمایا کہ بعض شریعتوں کو اور بعض کتب سماوی کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزری تھیں ہم نے ذہن انسانی سے بھلا کر انہیں منسوخ کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ تو علیم ہے وہ تو نام بھی لے سکتا تھا لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنتا۔اس واسطے اس کے رحم نے تقاضا کیا کہ ان کو بھولا رہنے دے اور اس طرح ان کو منسوخ کر دے۔سو یہ بھی منسوخ کرنے کا ہی ایک طریق ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ شریعت یا اس کا کوئی حصہ منسوخ کیا جائے ( کسی اعلان کے نتیجہ میں ) یا شریعت کا کوئی حصہ زیادہ اچھی شکل میں قرآن کریم میں نازل کر دیا جائے یا یہ اعلان کر دیا جائے کہ ہم نے نام لئے بغیر بعض شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ہر سہ صورتوں میں قرآن کریم مصدق بنتا ہے۔ان سب پہلی شریعتوں کا کیونکہ اعلان تنسیخ اور اعلان نسیان خود تصدیق ہے کہ وہ شریعتیں یا ان شریعتوں کے وہ حصے جو بنیادی صداقتیں تھی جن میں انسان کی طرف سے کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں۔یہ ایک معنی مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ کے ہیں۔دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ قرآن کریم ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ اس کے متعلق دنیا کی ہر شریعت نے پیشگوئی کی تھی اور بشارت دی تھی اور انہی پیشگوئیوں کے مطابق قرآن کریم اپنے وقت پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔تو فرما یا کہ یہ ایک عظیم کتاب ہے۔اتنی عظیم الشان کہ کوئی ایسی شریعت دنیا کے کسی خطہ میں نازل نہیں کی گئی۔جس کے نبی نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن ( کتاب عظیم ) کی بشارت نہ دی ہو۔اور کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی قوم کو اس