خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 371 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 371

خطبات ناصر جلد اوّل خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء قدير (البقرۃ: ۱۰۷) کہ ” جب بھی ہم کسی پیغام کو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسا پیغام ہم دنیا میں لے آتے ہیں۔اس آیت میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ پہلی کتب کی بعض باتوں کو بعض ہدایتوں کو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے پہلے جو کتاب بھیجی تھی اس کی یہ یہ ہدایتیں منسوخ کی جاتی ہیں تو اس اعلان میں اس کتاب کی تصدیق بھی ہو رہی ہوتی ہے یعنی منسوخ کا اعلان خود تصدیق کر رہا ہوتا ہے۔اس بات کی کہ وہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل کی گئی تھی جسے اب اللہ تعالیٰ منسوخ کر رہا ہے۔دوسرے اس میں یہ بتا یا کہ جو جو بنیادی صداقتیں پہلی کتب میں تھیں وہ تمام کی تمام ہم نے قرآن کریم میں جمع کر دی ہیں۔مِثْلِهَا “ میں اسی طرف اشارہ ہے۔مغل اس لئے کہا۔پہلے مجمل طریق پر یہ صداقتیں بیان ہوئی تھیں اور حکمت بتائے بغیر۔لیکن اب وہ کامل اور مکمل شکل میں قرآن کریم میں رکھ دی گئی ہیں بالکل وہی نہیں۔کیونکہ بالکل وہی ہوں تو اس سے قرآن کریم وو میں نقص لازم آتا ہے لیکن ہیں ویسی ہی مگر زیادہ اچھی شکل میں اور زیادہ تفصیل کے ساتھ۔بخير منھا وہ باتیں جن کی پہلی امتیں حامل نہ ہو سکتی تھیں بیان کر دیں اس لئے اس میں وہ ابدی صداقتیں بھی ہیں جو پہلی ہدایتوں کی جگہ آئیں اور ان سے زیادہ خوبصورت شکل میں۔اس میں ضمناً یہ بھی بتا دیا کہ چونکہ پہلی کتب محرف و مبدل ہوگئیں اس لئے مجموعی طور پر ان شریعتوں کو منسوخ کرنا پڑا مجموعی طور پر اس لئے کہ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں اب بھی بعض باتیں اسی شکل میں موجود ہیں جس شکل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔لیکن مجموعی طور پر وہ شریعت انسانی دخل کی وجہ سے اس قدر محرف ہو چکی ہے کہ اس میں وہ برکت ، وہ حسن اور اللہ تعالیٰ کا وہ جلوہ نظر نہیں آرہا ہے جو برکت، جوحسن اور جو جلو ہ الہی اس میں نزول کے وقت تھا اس لئے قرآن کریم نے اسے منسوخ کر دیا لیکن اس کی بنیادی صداقتوں کو لے لیا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بات بھی بتائی ہے وہ یہ کہ ہم انسان کے ذہن سے شریعت کو مٹا کر ( کہ وہ اسے بالکل بھول جائے ) بھی منسوخ کیا کرتے ہیں۔