خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد اول ۲۲ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء پڑے تھے اور ان کو سردی لگ رہی تھی۔ان کو یہ علم نہ تھا کہ یہ معاون اپنے لئے چائے لایا ہے چونکہ وہ بیمار تھے اور انہیں سردی لگ رہی تھی انہوں نے دیکھتے ہی اس لڑکے کو کہا کہ یہ چائے کیا تم میرے لئے لائے ہو ؟؟ وہ لڑکا چھوٹا ہی تھا شاید مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں پڑھتا تھا لیکن اس لڑکے کے چہرہ پر ذرہ بھر ایسا اثر نہ تھا۔جو اس مہمان کو شرمندہ کرنے والا ہو۔وہ آگے بڑھا اور اس نے کہا ہاں آپ کو سردی لگ رہی ہے یہ چائے آپ کے لئے ہے۔تو اس قسم کا جذ بہ بڑا قابل قدر اور قیمتی ہوتا ہے۔چائے کا ایک آبخورہ دے دینا کوئی چیز نہیں۔لیکن جس رنگ میں اس نے اس آبخورے کو پیش کیا۔مجھے یقین ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایسا پیارا لگا اور پسند آیا کہ وہ بچہ خدا تعالیٰ کی محبت کا وارث ٹھہر گیا۔حالانکہ اس کا یہ فعل بظاہر ایک معمولی سافعل تھا۔لیکن اس نے صرف وہ چائے پیش نہیں کی بلکہ ایسے خوبصورت رنگ میں پیش کی کہ مہمان کو محسوس بھی نہیں ہوا کہ یہ چائے دراصل اس کی ہے اور وہ مجھے دے رہا ہے۔ہزاروں ایسے واقعات جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہوتے ہیں اور اس طرح ہزاروں برکتیں ہیں جو ہم اس جلسہ کے دنوں میں حاصل کرتے ہیں اور ہزاروں فضل ہیں جو اللہ تعالیٰ ان ایام میں ہم پر نازل فرماتا ہے۔تو ربوہ کے رہنے والوں میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنی خدمات پیش نہ کرے۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مہمانوں کے بکثرت آنے کی بشارت ملی اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک کثیر جماعت عطا کروں گا اور جماعت کو اتنی برکت دوں گا کہ وہ تمام دنیا پر چھا جائے گی اور انسانوں کی بھاری اکثریت احمدیت میں داخل ہو جائے گی اور جو باہر رہیں گے ان کی حالت ویسی ہی ہوگی جیسے کہ ان قوموں کی ہے۔جو یونہی پھرتی نظر آتی ہیں اور بنی نوع انسان ان کی کچھ قدر نہیں کرتے ، کوئی عزت نہیں کرتے ، یعنی روئے زمین پر احمدی ہی احمدی ہوں گے اور بہت کم لوگ محروم رہیں گے۔ان بشارات میں دو چیزوں کی طرف صاف طور پر اشارہ کیا گیا ہے جو ہمارے ایمان کو ترقی دینے والی ہیں۔اول تو یہ فرما یا يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کہ لوگ اتنی کثرت سے آئیں گے