خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 356

خطبات ناصر جلد اول ۳۵۶ خطبہ جمعہ ۵ راگست ۱۹۶۶ء تیسرے یہ کہ وہ اپنی جماعت کی نگرانی کریں ( عمومی نگرانی، امیر یا پریذیڈنٹ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ) کہ نہ صرف ان کے گھر میں بلکہ ان کی جماعت میں بھی کوئی مرد اور کوئی عورت ایسی نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتی ہو۔ہر ایک عورت قرآن کریم پڑھ سکتی ہو، ترجمہ جانتی ہے ہو ، اسی طرح تمام مرد بھی قرآن کریم پڑھ سکتے ہوں، ترجمہ بھی جانتے ہوں اور قرآن کریم کے نور سے حصہ لینے والے ہوں تا کہ قیام احمدیت کا مقصد پورا ہو۔اسی طرح وصیت کرنے والی بہنیں بھی ہر جماعت میں اپنی ایک علیحدہ مجلس بنا ئیں اور اپنا ایک صدر منتخب کریں جو نا ئب صدر کہلائے گی اور وہ جماعت سے تعاون کریں اور موصی مردوں کی مجلس سے بھی تعاون کریں اور ان روحانی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں جو مالی قربانیوں کے علاوہ نظام وصیت اُن پر عائد کر رہا ہے۔آپ دوست یہ سن کر خوش ہوں گے کہ بہت سے مقامات پر مردوں کی نسبت ہماری احمدی بہنیں قرآن کریم ناظرہ زیادہ جاننے والی ہیں۔ایک تو ہمیں شرم اور غیرت آنی چاہیے۔دوسرے ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر بھی بجالانا چاہیے کیونکہ جس گھر کی عورت قرآن کریم جانتی ہوگی اس کے متعلق ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ اس گھر کے بچے اچھی تربیت حاصل کر سکیں گے۔پس جیسا کہ نور کے اس نظارہ سے جسے میں نے ساری دنیا میں پھیلتے دیکھا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی کامیاب اشاعت اور اسلام کے غلبہ کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اور ارشادات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں جو خوشخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے۔اس لئے میں پھر اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر واجب ہے کہ ہر احمدی مرد اور ہر احمدی عورت ، ہر احمدی بچہ، ہر احمدی جوان اور ہر احمدی بوڑھا پہلے اپنے دل کو نور قرآن سے منور کرے۔قرآن سیکھے ، قرآن پڑھے اور قرآن کے معارف سے اپنا سینہ و دل بھر لے اور معمور کر لے۔ایک نور مجسم بن جائے۔قرآن کریم میں ایسا محو ہو جائے۔قرآن کریم میں ایسا گم ہو جائے۔قرآن کریم میں ایسا فنا ہو جائے کہ دیکھنے والوں کو اس کے وجود میں قرآن کریم کا ہی نور