خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 346
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۴۶ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء ایک طرح حصر کر دیا گیا ہے کہ کسی طریق سے بھی ہم پر تیری لعنت نازل نہ ہو۔قرآن کریم کبھی ایسے اعمالِ صالحہ کی نشان دہی کرتا ہے جس کے نتیجہ میں شیطانی اندھیرے نور میں بدل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آتا ہے اور اس کے عذاب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تسلی دلائی کہ اگر تم قرآنی ہدایت پر عمل کرو گے تو میں فرشتوں کو مقرر کروں گا کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں اور وہ یوں دعا کریں گے۔رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَ عِلْمًا فَاغْفِرُ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (المؤمن : ۸ ) کہ ایسے لوگوں پر تو اپنا رحم کر کیونکہ تو بڑے حلم والا ہے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے جو تو بہ کرتے ہیں اور وہ طریق اور شریعت کی جو راہیں تو نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ان پر عمل کر رہے ہیں۔اسی طرح سورۃ الدھر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے جذبات کے غلام نہیں ہوتے بلکہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور صبر کی راہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔( کافور کی ملاوٹ ) اپنی نذریں ادا کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ کہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہ ہو وہ لوگ جو اس کی رضاء کے لئے مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے۔ریا، عجب، خودروی خود رائی اور دکھاوا ان میں نہیں ہوتا۔نہ وہ احسان جتاتے ہیں ، اپنے نفسوں اور اپنے نفس کی بدخواہشات اور میلانات سے جدا ہو کر محض اپنے رب کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں۔فَوَقْهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ ( الدّهر : ۱۲ ) کہ اس دن کے عذاب سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بچالے گا۔تو جب یہ کہا کہ میرا عذاب بڑا سخت ہے۔جب میں پکڑتا ہوں۔جب میری گرفت میں کوئی آتا ہے تو اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔فرما یا۔اس شَدِیدُ الْعِقَابِ خدا نے قرآن کریم کو اتارا ہے اور ہمیں اس واضح حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اس کتاب میں ہمیں وہ طریق بتائے گئے ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کے