خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 302

خطبات ناصر جلد اول ٣٠٢ خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء العلمينَ (الواقعة: (۸۱) اس لئے جس زمانہ میں بھی تم ہو اور جس ملک میں بھی اللہ تعالیٰ تمہیں پیدا کرے اس اصول کو مد نظر رکھنا کہ قرآن کریم کا اتارنے والا رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔جس کی حکمت تجدید، نشوونماء اور ارتقاء کو چاہتی ہے۔اس لئے دنیا بھی ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی کہیں کی کہیں پہنچ رہی ہے اور ہر نئی منزل پر اسے نئی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ ایسے بندے پیدا کر دیتا ہے جو قرآن کریم کے نئے مطالب، معانی اور نئے معارف اخذ کر کے اس زمانہ کی نئی الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔چونکہ قرآن کریم کے علوم ختم ہونے والے نہیں قرآنِ کریم غیر محدود حقائق اور غیر متناہی علوم و حقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔اس لئے ہر زمانہ کی حاجت کے مطابق وہ کھلتے جاتے ہیں اور ہر زمانہ کے خاص فاسد خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ علوم ایک مسلح فوج کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے کہ اس کتاب میں ہر وہ سامان موجود ہے جو کسی زمانہ کے لئے درکار ہے اور ہر ایک زمانہ کی ضرورت حقہ کے پورا کرنے کا کامل اور مکمل طور پر متکفل ہے جیسے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس زمانہ میں خود مشاہدہ کیا ہے۔غرضیکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کتاب کا تعلق ہماری صفت رَبُّ الْعَلَمِینَ سے بھی ہے۔جس طرح عالم ابتدائی دور میں تھے اور پھر ان میں سے ہر ایک آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے اسی طرح قرآن کریم کے علوم بھی منزل بہ منزل نئے سے نئے نکلتے چلے آئیں گے اور دنیا یہ نہ کہہ سکے گی کہ ہمیں ایک مسئلہ پیش آیا لیکن قرآن کریم نے ہمارے سامنے اس کا حل پیش نہیں کیا۔اس لئے اگر کسی جگہ تم رکتے ہو یا اسکتے ہو تو اس میں تمہارا قصور ہے تم ربوبیت عالمین کا دروازہ کھٹکھٹاؤ اور اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے دامن کو پکڑو۔خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزانہ طور پر جھکو اور کہو کہ اے خدا! تو نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ میں رب العلمین ہوں اور یہ کتاب میری طرف سے نازل ہوئی ہے میری اس صفت کے ماتحت جہاں عالمین ارتقائی دوروں میں سے گزر رہے ہیں وہاں قرآن کریم کے علوم بھی نئے سے نئے دنیا پر کھلتے رہیں گے۔آج ضرورت بعض مسائل کے حل