خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 301
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء صرف ظاہری علم ہے جسے وہ حاصل کر سکتا ہے قرآن کریم کے متعلق صرف ظاہری علم کافی نہیں ، قرآن کریم کے علوم، اس کی ہدایات ، اس کے معارف اور اس کی حکمتوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ساتھ صفت رحمانیت بھی جوش میں آئی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔گر بعلم خشک کارِ دیں بدے ہر لیے راز دار دیں بدے پس فرمایا کہ ہم نے ہر طرح سے قرآن کریم کی حفاظت کی ہے اور کوئی خشک یا ظاہری علم اس کے مغز اور روح کو نہیں پہنچ سکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ تم خدائے رحمن کا دروازہ کھٹکھٹاؤ کیونکہ جب تک تم اس کی نگاہ میں پاکیزہ نہیں ٹھہرو گے معارف و حقائق قرآنیہ کا بھی تم پر نزول نہیں ہوسکتا۔کیونکہ آیت لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعۃ: ۸۰) کا تعلق صفت رحمن سے ہے۔پھر فرمایا تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعة : ۸۱) قرآن کریم کی تفاسیر بہت سی ہو چکی ہیں۔میرے خیال میں کئی سو موٹی موٹی تفسیر میں لکھی گئی ہیں۔ان کے علاوہ لاکھوں صفحات تفسیر کے لکھے گئے ہیں۔ایک عام سمجھ کا انسان ان تفاسیر کے ڈھیر کو دیکھ کر دل میں خیال کر سکتا ہے۔کہ جو کچھ قرآن مجید میں تھا مفسرین نے اسے باہر نکال لیا ہے۔اب کوئی شخص کتاب مکنون سے کوئی نیا مطلب نہیں نکال سکتا۔اس خیال کی تردید کے لئے فرمایا کہ صحیفہ قدرت کو دیکھو کتنی کثرت سے بڑی بڑی ایجادیں ہوئیں بعض لوگوں نے صرف ایک مسئلہ کے متعلق نئی تحقیق پیش کی تو دنیا نے اسے بہت سراہا اور کہا کہ اس نے علم کی بڑی خدمت کی ہے اس نے ساری عمر میں گو ایک راز ہی سہی معلوم کر لیا ہے باوجود اتنی کوششوں کے پھر بھی نہیں کہا جا سکتا کہ دنیوی علوم ختم ہو گئے اور کہ انسان صحیفہ قدرت پر پوری طرح حاوی ہو گیا ہے اور کوئی نئی چیز یا ایجاد دریافت نہیں کی جاسکتی۔تو فرمایا کہ جس طرح صحیفہ قدرت میں اللہ تعالیٰ کے غیر محدود اسرار پوشیدہ ہیں اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی غیر محدود حکمتیں اور معارف پوشیدہ ہیں۔تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ