خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 263

خطبات ناصر جلد اول ۲۶۳ خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۶۶ء سواے سنے والو! ان باتوں کو یا درکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الہامات اور عبارات سے مندرجہ ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو وعدہ عطا فرمایا ہے اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ آپ نے انتہائی عاجزی اور فروتنی اور انکسار اور تذلل کے مقام کو اختیار کیا تھا تا کہ آپ کا رب آپ سے خوش ہو۔پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ محسن مطلق ہے اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ بھی فرمایا ہوا تھا کہ اُمت مسلمہ کے افراد جو میری طرف منسوب ہونے والے ہیں اگر تواضع کو اختیار کریں گے تو تواضع کی برکت سے ان کے لئے رفعت کے سامان مہیا کئے جائیں گے۔یہاں تک کہ بعض ان میں سے ساتویں آسمان تک پہنچ جائیں گے اور رفعت کا آخری مقام انہیں حاصل ہوگا۔دوم اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ یہ وعدہ اس لئے دیا جا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ساری کوشش اور تمام جہد و جہد اس غرض سے ہے کہ خدا تعالی کی تو حید دنیا میں قائم ہو۔گویا یوں فرمایا کہ چونکہ تو اپنی ہر کوشش ، اپنے مال کا ہر پیسہ اور توجہ کا ہر لحظہ اور زندگی کا ہر لمحہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے گزارے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے دنیا کی طرف سے ہزار ہا لعنتیں اور گالیاں لینے کے لئے تیار ہو گا اس لئے تجھ سے یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ تجھے ہم اتنی برکت دیں گے کہ وہ کپڑا جو تیرے بدن سے چھو جائے گا۔اس میں بھی برکت رکھی جائے گی اور اس کی حفاظت کی جائے گی۔اس وقت تک کہ بادشاہوں کے دلوں میں خواہش پیدا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برکت کے حصول کے لئے تیرے وہ کپڑے منگوا ئیں اور ان سے برکت حاصل کریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ میں نے ابھی پڑھ کر سنایا ہے۔۱۸۸۶ء کو اشتہار میں تحریر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا ہے کہ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تو مجھ سے