خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 11
خطبات ناصر جلد اول 11 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء جلسہ کے ایام کو نیکی کی باتیں سننے اور اپنے رب کے حضور عجز و انکسار سے دُعائیں کرنے میں گزاریں خطبه جمعه فرموده ۲۶ /نومبر ۱۹۶۵ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں احباب جماعت کو جلسہ سالانہ کے فوائد اس کی برکات اور اس کے متعلق ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس جلسے کا ایک پس منظر ہے آج میں اس پس منظر پر اور جو جلسے اس وقت تک ہو چکے ہیں ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ انیسویں صدی کی دوسری چوتھائی میں ہندوستان میں ایک بچہ پیدا ہوا اور اس نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی۔جو ماحول مذہبی اور دینی نہ تھا لیکن اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ایک موجیں مارنے والے سمندر کی طرح جوش مار رہی تھی اور ایک جلا دینے والی آگ کی طرح اس کے دل میں بھڑک رہی تھی۔مگر دنیا اس سے واقف نہ تھی۔اس کا خاندان ( جو ایک رئیس خاندان تھا) اسے دنیوی لحاظ سے ایک نکما وجود سمجھتا تھا۔ان کے نزدیک نہ یہ دنیا کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا تھا اور نہ خاندان کی عزت قائم رکھ سکتا تھا۔اس لئے وہ اس سے کلیۂ لا پرواہی برتا کرتے تھے۔یہاں تک کہ دستر خوان کے بچے کھچے ٹکڑے اس کے کھانے کے لئے رکھ