خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 222
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء نسبت کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی اور اسلام کے غلبہ کو جمالی جلوؤں کے ساتھ وابستہ کیا ہوا ہے۔اور جہاں یہ کیفیت ہو وہاں بڑی لمبی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں اور آنے والی نسلوں کا بڑے لمبے عرصہ تک خیال رکھنا پڑتا ہے تا کہ وہ صداقت پر قائم رہیں اور ادھر اُدھر بھٹکیں نہیں۔اسی طرح جو ایذا رسانی دشمن کی طرف سے اس وقت ہوتی ہے وہ اس سے کچھ مختلف ہوتی ہے جو خدائے تعالیٰ کے جلالی جلوؤں کے زمانہ میں ہوتی ہے کیونکہ جس وقت اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہو کہ اپنے جلالی اور قہری نشانوں سے دشمن کو مغلوب کرے تو اس وقت وہ دشمن اور مخالف کو بھی چھوڑ دیتا ہے کہ وہ تلوار لے اور اپنے زور بازو سے دین الہی کو مٹانے کی کوشش کرے تب وہ دشمن یہ خیال کرتا ہے کہ خدا نے مجھے طاقت اور غلبہ اور وجاہت اور عزت کے ساتھ ساتھ تلواریں اور نیزے اور تیر اس کثرت سے دیئے ہیں کہ ان مٹھی بھر آدمیوں کو میں بڑی آسانی سے مٹا سکتا ہوں اور جب وہ ان کو مٹانے کی کوشش شروع کرتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کا قہری نشان ظاہر ہوتا ہے اور ایک لحظہ میں اسے ملیا میٹ کر کے رکھ دیتا ہے۔لیکن جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے جمال کو ظاہر کرنا ہو اور اپنے جمالی جلوؤں سے دین کو مضبوط اور غالب کرنا ہو وہاں وہ عام طور پر دشمن کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ تلوار اٹھائے بلکہ عام طور پر دوسری قسم کی مخالفت اور ایذا رسانی ہوتی ہے۔مثلاً گالیاں دینا، بعض دفعہ منہ پر تھوکنا، تھپڑ لگا دینا وغیرہ بہر حال وہ ان بچوں والی حرکتوں سے اپنا غصہ نکال لیتے ہیں اور بڑے لمبے عرصہ تک مومن کو ان کا یہ غصہ سہنا پڑتا ہے۔آخر مومن خدا تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کے وارث ہو جاتے ہیں۔ایسے زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں مخالفین کو مختلف اطراف سے کھرچ کھرچ کر کمزور کرتا چلا جاؤں گا اور مومنوں کو مضبوط کرتا چلا جاؤں گا اور یہ تکلیفیں اور ایذارسانیاں دور ہو جا ئیں گی۔کسی گاؤں میں کوئی شخص احمدی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دیتا ہے تو سارا گاؤں اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ماں باپ تک کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے گھر میں نہ آنا۔جب وہ یہ ایذارسانی بشاشت سے قبول کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ وہ حالات بھی بدل دیتا ہے۔