خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 221 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 221

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۲۱ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء خدا تعالیٰ تمہیں اس کا بھی اجر دے گا تو خرچ کے متعلق بھی ہدایات دے دیں تا کہ ہمارا ہر خرچ جو بظاہر دنیا سے تعلق رکھتا ہے وہ بھی دین کا حصہ بن جائے اور اس کے نتیجہ میں ہمیں ثواب حاصل ہو۔یہ تو اس کے فضل اور اس کے احسان ہیں ہم نے تو اس کے شکر گزار بندے بنا ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر بجالانے کا بہترین بلکہ ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ہم اس کے احکام پر کار بند ہوں۔تو ہم جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں۔ہماری پہلی آزمائش یا پہلا امتحان یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کا علم حاصل کریں اور اس نیت کے ساتھ حاصل کریں کہ ہر وہ حکم جو قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ہم اس کو بجالائیں گے اور ہر اس چیز سے بچیں گے جس سے بچنے کی ہمیں تلقین کی گئی ہے۔پھر قضاء و قدر کی آزمائش میں بھی ہمیں نہایت اچھا اور نیک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔اس وقت مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے خاندان بھی آپ کو نظر آئیں گے جو گھر میں فوت وموت ہونے کے وقت یا تو خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں یا پھر اس کا شکوہ شروع کرنے لگتے ہیں۔وہ اس بشارت کے مستحق نہیں بن سکتے جس کا ذکر خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ - الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - (البقرة : ۱۵۶ ۱۵۷) جس کی چیز بھی اس نے لے لی شکوہ کی گنجائش ہی کہاں ہے لیکن انسان بعض دفعہ بڑی حماقت کی باتیں کرتا ہے اور اپنے رب کا بھی شکوہ شروع کر دیتا ہے۔تو قضاء وقدر کی آزمائش اور امتحان جو ہمارے لئے مقدر ہیں ان میں بھی ہم نے ایسا نمونہ دکھانا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بشارتیں ہمیں ملیں اس کا غضب یا ناراضگی ہم پر نہ اترے۔پھر تیسری قسم کی آزمائش یا لوگوں کا فتنہ ہے۔چونکہ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے خدا تعالیٰ کے جمالی جلوؤں کے ذریعہ اسلام کو دنیا پر غالب کرنا ہے بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں غلبہ اسلام کے لئے جو جلوے ظاہر کرتا رہا ہے یا کر رہا ہے یا آئندہ کرتا رہے گا اس میں اس کے جمالی جلوؤں کی کثرت اور جلالی جلوؤں کی قلت ہے۔اس