خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 214
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۱۴ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء اس کے مامور ( رسول اور نبی ) پر ایمان لاتی ہے تو اس کا محض زبانی ایمان اللہ تعالیٰ کو مقبول نہیں ہوتا بلکہ اس ایمان کے نتیجہ میں جب تک اسلَمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرۃ : ۱۳۲) کا مظاہرہ نہ ہو۔یعنی اس وقت تک وہ قوم الہی انعامات، فضلوں ، برکتوں اور رحمتوں کی وارث نہیں بن سکتی۔جب تک وہ ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پوری نہ اترے اور پوری طرح ثابت قدم نہ رہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے فتنے اور آزمائشیں تین قسم کی ہیں۔ان میں سے مومنوں کو گزرنا پڑتا ہے۔تین قسم کی آگ ہے۔جس میں اپنے رب کی رضا کے لئے انہیں چھلانگ لگا نا پڑتی ہے۔اگر وہ خلوص نیت رکھنے والے ہوں اور ان کا ایمان سچا ہو۔تو اللہ تعالیٰ ان تینوں قسم کی آگوں کو ان کے لئے بردا وسلما بنا دیتا ہے اور وہ ان آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے ہیں۔(۱) پہلا امتحان اور آزمائش ( کیونکہ فتنہ کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں ) وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے۔جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔اپنے نفسوں کو مارنا پڑتا ہے بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عزتیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے۔قرآن کریم چونکہ آخری شریعت ہے اس لئے اس نے ہمارے لئے کامل ہدایت مہیا کی اور ان کامل مجاہدات کے طریق ہمیں سکھائے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم انتہائی عظیم الشان نعمتوں کے وارث بن سکتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِ وَالْخَيْرِ فِتْنَةٌ وَ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ۔(الانبیاء : ۳۶) یعنی ہم تمہاری الشّر اور الْخَيْر کے ذریعہ آزمائش کریں گے۔اور آخر ہماری طرف ہی تم کو لوٹا کر لایا جائے گا۔گویا فرمایا اگر تم اس آزمائش میں پورے اترے جسے ہم الخیر کہہ رہے ہیں۔اس سے تم نے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور جسے ہم اکشر کہہ رہے ہیں اس سے تم زیادہ سے زیادہ بچے تو جب تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے تو اسی کے مطابق ہماری طرف سے تمہیں اچھا بدلہ ملے گا۔