خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 179 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 179

خطبات ناصر جلد اول ۱۷۹ خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء اس وقت داخل ہوگا جب اللہ تعالیٰ کا ایسا کرنے کا منشا ہو اور وہ ارادہ کر لے کہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔قرآن کریم میں جو احسن قول بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان جب کوئی وعدہ کرے تو اسے پورا بھی کرے ہمارے کچھ بنیادی وعدے ہیں جو ہم نے اللہ تعالیٰ کے ایک مامور اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہیں مثلاً ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کو یہ قول بھی دیا تھا کہ ہم سب جنہوں نے وصیت کی ہے اپنی آمد اور اپنی جائیداد کا ۱۰ / اخدا تعالیٰ کے دین کی خاطر دیں گے۔اور جن لوگوں نے وصیت نہیں کی انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم اپنی آمد کا ۱/۱۶ حصہ دین کی خاطر چندہ میں دیں گے اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں احسن قول وہ ہے کہ جب وہ وعدہ کے رنگ میں کیا جائے تو اسے پورا بھی کیا جائے۔قرآنی ارشاد لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف:۳) کے ایک معنی یہ بھی کئے جاسکتے ہیں کہ تم ایسے وعدے کیوں کرتے ہو جو تم نے پورے نہیں کرنے۔اس وقت تک صدر انجمن احمد یہ کے چندے ( چندہ عام چند وصیت اور چندہ جلسہ سالانہ ) ۸۳ فیصدی وصول ہو جانے چاہیے تھے لیکن ابھی تک ان کا سوے فیصدی وصول ہوا ہے اور وقت دوماہ سے کم رہ گیا ہے۔خصوصاً موصی صاحبان پر مجھے بڑی حیرت ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے ایک وعدہ کیا تھا اور ان کے رب نے انہیں دنیا میں ہی ایک بشارت دی تھی انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ علاوہ تقویٰ کی دیگر راہوں کے ہم اپنے مالوں کی بھی قربانی اس رنگ میں دیں گے کہ ان کا دسواں حصہ تیری راہ میں قربان کریں گے اور کرتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر تم اس عہد کو نبھا لو گے تو تمہیں میں بہشتی مقبرہ میں جگہ دوں گا۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی بشارت ہے جو موصی صاحبان کو اس دنیا میں ملی ہے لیکن ان میں سے ایک حصہ اپنے عہد کو نبھانے کی کوشش نہیں کرتا اور اگر آپ سوچیں تو جس طرح میں حیرت میں پڑ جاتا ہوں آپ بھی حیران ہوں گے کہ اتنی حقیر قربانیاں اور ان کے بدلہ میں اتنی عظیم بشارت