خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 178

خطبات ناصر جلد اول IZA خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء جواب میں فرمائے گا اے رسول تو نہیں جانتا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ان کے اعمال کا پور اعلم مجھے ہے گویا بعض برگزیدہ انسان بھی بعض لوگوں کے متعلق یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ اچھے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیا ہے لیکن حقیقتاً وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے وارث نہیں ہوں گے۔وہ اس کی جنت کے مستحق قرار نہیں دیئے جائیں گے۔پس فرما یاوَمَا أَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا - کہ اے رسول تو نہ تو اس بات کا ذمہ دار ہے کہ لوگ ضرور نیکیاں کریں اور نہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اگر لوگ بظاہر نیکیاں کریں تو وہ ضرور جنت کے وارث بن جائیں گے۔کیونکہ اس دنیا میں بھی تمہارے سامنے ایک مثال موجود ہے ایک شخص جنگ میں بظاہر بڑے اخلاص سے حصہ لے رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اسلام پر فدا ہونے کو اس کا جی چاہ رہا ہے۔وہ مسلمانوں کی طرف سے لڑ رہا تھا اور کافروں پر حملہ آور ہو رہا تھا اور بڑے بڑے صحابہ کی بھی اس کے متعلق یہ رائے تھی کہ وہ بڑا مخلص اور فدائی ہے۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا۔وہ دوزخی ہے۔صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سچا ثابت کرنے کے لئے اس شخص کا پیچھا کیا تو انہوں نے دیکھا وہ جنگ میں شدید زخمی ہو گیا ہے اور زخموں کی ، تکلیف کی برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے خود کشی کر لی ہے۔اس طرح صحابہ کو نظر آ گیا کہ گو اس شخص نے بڑے جوش کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا لیکن اس کا ایسا کرنا اخلاص کی پنا پر نہیں تھا بلکہ بعض اور بواعث تھے جن کی وجہ سے وہ کفار کے خلاف بڑے جوش کے ساتھ لڑا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا لیکن بد قسمتی اس امت کی یہ ہے کہ اس میں بعض پیر، سجادہ نشین اور علماء ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جو اپنے مریدوں کو کہتے ہیں کہ تم کوئی فکر نہ کرو ہم تمہیں جنت میں پہنچانے کا ذمہ لیتے ہیں۔حالانکہ جنت میں پہنچنے کے لئے انسان کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور پھر بہت کچھ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض جنت میں انسان تبھی جائے گا جب وہ نیک اعمال بجالائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان اسے حاصل ہو جائے گا۔گویا انسان جنت میں