خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 168

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۶۸ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء اولیائے اُمت اپنے لئے اتنی دعائیں نہ کرتے تھے۔جتنی دعا ئیں انہوں نے اُمت مسلمہ کے لئے کیں اور اب جماعت احمدیہ کے خلفاء بھی اپنے لئے اتنی دعائیں نہیں کرتے ( یا نہیں کرتے رہے ) جتنی دعا ئیں وہ احمدی بھائیوں کے لئے کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں اور اس امید اور یقین سے دعا کرتے اور کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان دعاؤں کے نتیجہ میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا کرے گا پھر ہمارا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری حقیر دعاؤں کے نتیجہ میں واقعہ میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا ہو جاتی ہے اور جماعت کے افراد کے سینکڑوں خطوط اس بات کی شہادت دے رہے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لھم کو ہر آن پورا کر رہا ہے۔کبھی وہ ہماری دعاؤں کو قبول کر کے مومنوں کے دلوں میں تسکین کے سامان پیدا کرتا ہے اور کبھی وہ مومنوں کو قوت برداشت عطا کر کے ان کے لئے تسکین کے سامان مہیا کرتا ہے بہر حال وہ ان کے دلوں میں تسکین کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔پس ان آیات میں جن باتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے وہ باتیں ہمیں ہر وقت یا درکھنی چاہئیں۔پہلی بات جو خدا تعالیٰ نے ہمیں ان آیات میں بتائی ہے یہ ہے کہ مومن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ منافق بھی غلطی کرتا ہے اور مومن بھی غلطی کرتا ہے لیکن منافق غلطی کرتا ہے تو اس پر اصرار کرتا ہے۔جیسا کہ فرما یا مَردُوا عَلَى النِّفَاقِ وہ نفاق کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس کے لئے ان کے دل میں ندامت کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔لیکن اس کے مقابلہ میں جب مومن کو ئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے اور وہ تو بہ کے ذریعہ اپنی غلطی معاف کروانے کی کوشش کرتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ اس کو اس معصوم بچے کی طرح بنادیتا ہے جو ابھی ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تو بہ کرنے والا تو بہ کرنے کے بعد (اگر اس کی توبہ قبول ہو جائے ) ایسا ہی ہے جیسے اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔اس سے کوئی غلطی سرزد ہی نہیں ہوئی۔پس وہ شخص جو تو بہ کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی تو بہ کو قبول کر لیتا ہے وہ ویسا ہی معصوم بن جاتا ہے جیسا کہ ایک نوزائیدہ بچہ۔غرض مومن کو