خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 167

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۶۷ خطبہ جمعہ ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء بلکہ وہ ان بشارتوں کو جو اس نے چودہ سو سال قبل سے دے رکھی تھیں۔انہیں ہماری زندگی میں ہی پورا کر رہا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی حمد کی جائے وہ کم ہے۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( اور ان کے ان اظلال کو بھی جو آپ کے بعد ہونے والے تھے ) مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لئے دعا بھی کر کیونکہ تیری دعا ان کے لئے تسکین کا موجب ہوگی میں سمجھتا ہوں کہ مومنوں کے لئے اس میں بہت بڑی بشارت ہے اور وہ بشارت یہ ہے۔کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دو گے۔اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی وہ چیزیں پیش کرو گے جن کے تم حقیقی مالک ہو اور خدا تعالیٰ کی عطا میں سے وہ تمہارے لئے ہی مخصوص کی گئی ہیں اور پھر تم انہیں بڑی خوشی اور بشاشت سے پیش کرو گے۔تو خدا تعالیٰ تمہاری ان قربانیوں کو قبول کر لے گا اور نہ صرف وہ تمہاری قربانیوں کو قبول کرے گا بلکہ اس نے تمہارے لئے دعاؤں کا ہمیشہ بہنے والا اور کبھی بھی خشک نہ ہونے والا در یا جاری کر دیا ہے کیونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے۔کہ تم مومنوں کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کا صرف بدلہ ہی نہ دے بلکہ اپنی رحمانیت کی صفت کے ماتحت ان کے ثواب میں ہر آن اور ہر لحظہ زیادتی کرتا چلا جائے اور اپنے قرب کی راہیں ان پر ہر وقت کھولتا رہے اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں وہ انہیں بلند سے بلند تر مقام کی طرف لے جاتا چلا جائے۔پس یہ کتنی بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے اس نے خود فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرو گے تو وہ نہ صرف انہیں قبول کرے گا بلکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ آپ ہمارے لئے دعائیں کریں۔اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول کر کے اپنی رحمانیت کے تحت ہر وقت ان کے ثواب میں بڑھوتی کرتا چلا جائے گا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اظلال نے بھی ہمیشہ اور ہر وقت موجود رہنا ہے اس لئے ان کو بھی یہ حکم ہے۔کہ تم جس جماعت پر مقرر کئے گئے ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین مجددین اور