خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 91

خطبات ناصر جلد اول ۹۱ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء کا ایک فعال حصہ ہونے کے باوجود ہم صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے ایک قسم کی راہبانہ زندگی گزار رہے ہیں اور در حقیقت اگر سوچا جائے تو دنیا سے قطع تعلق کر لینے کے نتیجہ میں انسان اپنے رب کا کامل مطیع ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس طرح اس نے اپنی زندگی کے بعض پہلوؤں میں تو شائد اپنے رب کی اطاعت کی۔لیکن بعض پہلووؤں میں اس نے اطاعت سے گریز کیا اور یہ موقعہ آنے ہی نہیں دیا کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کرتا۔غرض اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ تم بھر پور زندگی گزارو لیکن جہاں تمہاری زندگیاں دنیوی لحاظ سے بھر پور ہوں وہاں روحانی لحاظ سے بھی بھر پور ہوں۔تم راہب نہ ہوتے ہوئے بھی راہبانہ زندگی اختیار کرود نیا کے جائز مشاغل میں حصہ لو، بیاہ شادی بھی کرو تم پر تمہارے والدین کے بھی بعض حقوق ہیں، تمہاری بیوی اور اولاد کے بھی بعض حقوق ہیں ، تمہاے رشتہ داروں کے بھی بعض حقوق ہیں، تمہارے اسلامی بھائیوں اور دوسرے بنی نوع انسان کے بھی بعض حقوق ہیں۔خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے بھی بعض حقوق ہیں، ان حقوق کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہم تم سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک حقیقی عبد اور سچے مطیع کی حیثیت سے اپنی زندگیاں گزارو بالکل اسی طرح جس طرح ایک راہب اپنی زندگی گزارتا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام نے ایک طرف رہبانیت سے منع کیا اور دوسری طرف دنیا کے سب مشاغل کے باوجود کامل انقطاع الی اللہ کی تلقین کی تو ہمیں اس بات کا کیسے علم ہوگا کہ ایک راہب کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ علم دینے کے لئے کہ وہ کس قسم کے انقطاع عن الدنیا اور انابت الی اللہ کو پسند کرتا ہے۔ہمارے لئے اعتکاف کی نفلی عبادت مقر ر فرمائی۔یہ نفلی عبادت یعنی اعتکاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے پہلے دس دنوں میں بجالائے پھر آپ رمضان کے درمیانی دس دنوں میں بھی اعتکاف بیٹھے اور آپ یہ عبادت رمضان کے آخری عشرہ میں بھی بجالائے ہیں۔غرض آپ رمضان کے تینوں عشروں میں اعتکاف بیٹھے ہیں اور اسے آخری شکل آپ نے یہ دی کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی عبادت بجالائی جائے اب رمضان کا آخری عشرہ بڑا ہی محدود زمانہ ہے۔دس دن ہی تو ہیں۔پھر لوگوں کی تو ایک محدود تعداد اعتکاف بیٹھتی ہے لیکن اس۔